-Advertisement-

یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی اور گلیشیئرز پگھلنے سے ماحولیاتی بحران شدت اختیار کر گیا

تازہ ترین

بھارت: بینک سے رقم نکلوانے کے لیے شخص نے بہن کی قبر کشائی کر کے لاش بینک پہنچا دی

بھارت کی ریاست اوڈیشہ میں ایک انتہائی افسوسناک اور حیران کن واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک شخص نے...
-Advertisement-

یورپ میں سن دو ہزار پچیس کے دوران ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور سمندری درجہ حرارت میں اضافے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ اسٹیٹ آف دی کلائمیٹ رپورٹ کے مطابق یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے جہاں موسمیاتی تغیرات معمول بنتے جا رہے ہیں۔

یورپی کمیشن کے عہدیدار مورو فاکینی کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں سامنے آنے والے موسمیاتی اشاریے انتہائی تشویشناک ہیں۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کی سیکریٹری جنرل سیلیسٹے ساؤلو نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انیس سو اسی کے بعد سے یورپ عالمی اوسط سے دگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خطے کے پچانوے فیصد حصے میں سالانہ درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہا۔ برطانیہ، ناروے اور آئس لینڈ میں اب تک کا گرم ترین سال ریکارڈ کیا گیا۔ فن لینڈ، ناروے اور سویڈن پر مشتمل فینو سکینڈیا کے خطے میں جولائی کے دوران تین ہفتوں تک شدید گرمی رہی اور آرکٹک سرکل میں درجہ حرارت تیس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ ترکی میں درجہ حرارت پہلی بار پچاس ڈگری تک گیا جبکہ یونان کی پچاسی فیصد آبادی چالیس ڈگری یا اس سے زائد کی شدید گرمی سے متاثر ہوئی۔

یورپ بھر میں گلیشیئرز کے حجم میں کمی کا رجحان جاری رہا۔ آئس لینڈ میں گلیشیئرز پگھلنے کی یہ دوسری بڑی سطح ریکارڈ کی گئی۔ گرین لینڈ آئس شیٹ سے ایک سو انتالیس ارب ٹن برف پگھلی، جو ہر گھنٹے ایک سو اولمپک سائز کے سوئمنگ پولز کے خالی ہونے کے مترادف ہے۔ اس عمل سے عالمی سطح سمندر میں اعشاریہ چار ملی میٹر کا اضافہ ہوا۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے باوجود توانائی کے شعبے میں بہتری دیکھی گئی۔ مسلسل تیسرے سال یورپ میں فوسل فیولز کے مقابلے میں قابل تجدید ذرائع سے زیادہ بجلی پیدا کی گئی، جس کا حصہ کل پیداوار کا چھیالیس اعشاریہ چار فیصد رہا۔ سولر پاور نے ریکارڈ بارہ اعشاریہ پانچ فیصد حصہ ڈالا، تاہم یورپی کمیشن کے مشیر دوشان چرینک کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت ناکافی ہے اور فوسل فیولز سے مکمل انخلا کے لیے اقدامات کو تیز کرنا ہوگا۔

سمندری درجہ حرارت مسلسل چوتھے سال بلند ترین سطح پر رہا، جس سے آبی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس کے علاوہ جنگلات میں لگنے والی آگ سے ریکارڈ دس لاکھ چونتیس ہزار پانچ سو پچاس ہیکٹر رقبہ خاکستر ہوا۔ شدید طوفانوں اور سیلابی صورتحال کے باعث کم از کم اکیس افراد ہلاک اور چودہ ہزار پانچ سو شہری متاثر ہوئے۔ یورپی حکام نے زور دیا ہے کہ خطے کو فوری طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے اور کلین انرجی کی جانب منتقلی کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -