-Advertisement-

سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی پر ٹرمپ کو دھمکانے کا مقدمہ درج

تازہ ترین

امریکہ میں 10 ملین ڈالر انعام یافتہ گواٹے مالا کا مطلوب منشیات فروش گرفتار

امریکی حکام نے گوئٹے مالا کے منشیات فروش گروہ کے ایک مبینہ سرغنہ کو گرفتار کر لیا ہے جس...
-Advertisement-

امریکی وفاقی استغاثہ نے سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں دوسری فرد جرم عائد کر دی ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ کومی نے گزشتہ برس سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جس میں سمندری سیپیوں سے 86 اور 47 کے ہندسے بنائے گئے تھے۔

استغاثہ کے مطابق 86 کا مطلب کسی کو ختم کرنا جبکہ 47 صدر ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کی جانب اشارہ ہے۔ جیمز کومی پر امریکی صدر کو دھمکیاں دینے اور ریاستی حدود کے پار ان دھمکیوں کو پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اس معاملے پر قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فرد کو دی جانے والی دھمکی سنگین معاملہ ہے اور صدر کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

جیمز کومی نے اپنے بیان میں تشدد پر اکسانے کے ارادے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات سے لاعلم تھے کہ تصویر کو دھمکی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بعد ازاں وہ پوسٹ ہٹا دی اور ایک ویڈیو پیغام میں اپنی بے گناہی پر اصرار کرتے ہوئے عدالتی نظام پر اعتماد کا اظہار کیا۔

اگر کومی پر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں دس سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ موجودہ صدارتی دور میں کومی کے خلاف دوسری فرد جرم ہے۔ ناقدین اس کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں تاہم حکام نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

سینیٹ جوڈیشری کمیٹی کے رکن ڈک ڈربن نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے اسے صدر کو خوش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اس سے قبل کومی کے خلاف حساس معلومات افشا کرنے سے متعلق ایک مقدمہ اس وقت ختم کر دیا گیا تھا جب وفاقی جج نے پراسیکیوٹر کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ جیمز کومی کو 2017 میں اس وقت ایف بی آئی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جب وہ صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم اور روس کے درمیان مبینہ روابط کی تحقیقات کر رہے تھے۔ بعد ازاں رابرٹ ملر کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات میں ملی بھگت کے کوئی ثبوت نہیں ملے تھے، جسے صدر ٹرمپ نے ہمیشہ سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -