-Advertisement-

وفاقی حکومت کی گندم کی بین الصوبائی نقل و حمل بلا تعطل یقینی بنانے کی ہدایت

تازہ ترین

چنیوٹ: مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق

چنیوٹ کے نواحی علاقے کنڈیوال میں بدھ کی شب مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے چار...
-Advertisement-

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں گندم کی بلاتعطل ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے تمام صوبوں اور متعلقہ محکموں کو سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ گندم کی بین الصوبائی نقل و حمل میں حائل تمام انتظامی اور لاجسٹک رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین کی زیر صدارت نیشنل ویٹ اوور سائٹ کمیٹی کا گیارہواں اجلاس منعقد ہوا جس میں گندم کی خریداری مہم، کٹائی کے عمل اور مارکیٹ میں جاری قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔

رانا تنویر حسین نے واضح کیا کہ مقامی منڈی میں گندم کی قیمتیں 3500 سے 4000 روپے فی من کے درمیان ہیں جو بین الاقوامی رجحانات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ یہ قیمتیں کاشتکاروں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صارفین کے لیے بھی قابل برداشت ہیں۔

وفاقی وزیر نے گندم کے موجودہ ذخائر پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے گندم کا وافر اسٹاک موجود ہے اور فوڈ سیکیورٹی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبوں نے رواں سیزن کے دوران گندم کی پیداوار کے اہداف حاصل کرنے پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔

اجلاس میں خریداری کے عمل میں شفافیت اور کارکردگی پر زور دیا گیا۔ وزیر نے حکام کو ہدایت کی کہ کاشتکاروں کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنائیں اور خریداری مراکز پر کسانوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔

رانا تنویر حسین نے گندم کے اسٹاک اور مارکیٹ کے رجحانات کی کڑی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ٹولز اور ڈیٹا پر مبنی میکانزم کے استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے گوداموں کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور کٹائی کے بعد ضائع ہونے والی گندم کی شرح کو کم سے کم کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -