باجوڑ میں افغان سرحد سے ہونے والی بلا اشتعال گولہ باری کے نتیجے میں نو شہریوں کی ہلاکت کے بعد ضلعی انتظامیہ نے متاثرین کی باقاعدہ فہرست جاری کر دی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں تین خواتین اور چھ بچے شامل ہیں۔
ڈپٹی کمشنر باجوڑ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ افسوسناک واقعات مارچ اور اپریل 2026 کے دوران پیش آئے۔ افغان سرزمین سے داغے گئے مارٹر گولے باجوڑ کی تحصیل ماموند اور سالارزئی کے رہائشی علاقوں میں گرے جس کے باعث نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ کئی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری سے پیدا ہونے والی صورتحال اور انسانی نقصانات کے حوالے سے پائے جانے والے ابہام کو دور کرنے کے لیے متاثرین کی تفصیلات منظر عام پر لائی گئی ہیں۔ ان واقعات کے فوری بعد امدادی ٹیمیں اور ضلعی حکام متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور ریسکیو آپریشن مکمل کیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے سرحد پار سے ہونے والی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا اور ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جہاں سے گولہ باری کی جا رہی تھی۔ حکام نے واضح کیا کہ جوابی کارروائی انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی اور صرف عسکری پوزیشنز کو ہدف بنایا گیا تاکہ دوسری جانب کسی بھی شہری کو نقصان نہ پہنچے۔
باجوڑ کے مقامی رہائشیوں نے سرحد پار سے ہونے والے حملوں پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحد پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں تاکہ عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق خیبر، کرم اور شمالی وزیرستان کے سرحدی اضلاع میں بھی ماضی میں اس طرح کے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں شہریوں کا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بارہا اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ سرحد پار سے آنے والے سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
