-Advertisement-

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات: اسپاٹیفائی کا انسانی فنکاروں کی شناخت کے لیے نیا فیچر متعارف

تازہ ترین

واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کی پاسپورٹ سروسز دو روز کے لیے معطل

واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے سسٹم کی دیکھ بھال کے باعث پاسپورٹ سروسز کو دو روز کے لیے...
-Advertisement-

مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ حقیقت پسندانہ تصاویر، ویڈیوز اور تحریروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث انسانی تخلیق اور مشینوں کے کام میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر معروف آڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی نے صارفین کی سہولت کے لیے ایک نیا تصدیقی ٹول متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد گانوں کے تخلیق کاروں کی شناخت کو واضح کرنا ہے۔

ویریفائیڈ بائے اسپاٹیفائی کے نام سے شروع کردہ اس نئے فیچر کے ذریعے پلیٹ فارم ان فنکاروں کی نشاندہی کرے گا جو انسانی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سامعین کو موسیقی اور فنکاروں کے بارے میں شفافیت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے پسندیدہ فنکاروں کے ساتھ گہرا تعلق قائم کر سکیں۔

اسپاٹیفائی نے واضح کیا ہے کہ یہ بیج ان پروفائلز پر ظاہر ہوگا جن کی جانچ پڑتال کے بعد یہ تصدیق ہو جائے گی کہ فنکار ایک حقیقی انسان ہے۔ اس بیج کے حصول کے لیے پروفائل پر حقیقی فنکار ہونے کے ٹھوس شواہد کا ہونا ضروری ہے، جن میں پلیٹ فارم کے اندر اور باہر فنکار کی موجودگی، کنسرٹ کی تاریخیں، تجارتی اشیاء اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا لنک شامل ہیں۔

کمپنی کو ماضی میں اپنی سروس پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ موسیقی کی بھرمار کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہا ہے، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ انسانی تخلیق کی قدر کو کم کرتی ہے۔ اب اسپاٹیفائی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں موسیقی کی صداقت پر اعتماد کرنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

اسپاٹیفائی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جن پروفائلز کو مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی شخصیات کے طور پر شناخت کیا جائے گا، انہیں یہ تصدیقی بیج نہیں دیا جائے گا۔ کمپنی اس عمل کو جاری رکھے گی اور ابتدائی مرحلے میں تمام حقیقی فنکاروں کو یہ بیج نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مستقبل میں اس کے اہل نہیں ہوں گے۔

مختلف تخلیقی صنعتوں میں مصنوعی ذہانت کا اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ برس ایک اے آئی اداکارہ ٹلی نوروڈ کی شمولیت نے کافی بحث چھیڑ دی تھی، جبکہ مارکیٹنگ کے شعبے میں بھی اشتہارات اور حقیقت پسندانہ ماڈلز کی تیاری کے لیے تیزی سے مصنوعی ذہانت کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -