-Advertisement-

عمران خان اور بشریٰ بی بی کا جیل میں علاج ممکن نہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کر دیا گیا

تازہ ترین

پاکستان کے بحرانوں کا حل آئین اور قانون کی بالادستی میں ہے: شاہد خاقان عباسی

سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش سیاسی...
-Advertisement-

اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں طویل تنہائی اور صحت کے سنگین مسائل کا شکار ہیں۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ کے روبرو بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے موقف اختیار کیا کہ دونوں قیدیوں کی بینائی تیزی سے متاثر ہو رہی ہے اور جیل کے ماحول میں انہیں طبی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی کا 85 فیصد حصہ ضائع ہو چکا ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق یہ نقصان ناقابل تلافی ہے۔ وکیل نے سوال اٹھایا کہ دونوں قیدیوں کی دائیں آنکھ میں کون سا انفیکشن ہے جس کے لیے فوری سرجری درکار ہے جو جیل کے اندر ممکن نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو 22 گھنٹے اور بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے سخت تنہائی میں رکھا گیا ہے جو کہ عدالتی احکامات کے منافی اور تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔

وکیل نے 16 اپریل کو اڈیالہ جیل سے بشریٰ بی بی کی طبیعت کے حوالے سے آنے والی ہنگامی کال کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عدالت آئی جی جیل خانہ جات سمیت اعلیٰ حکام کو طلب کر کے قید کے حالات پر جواب طلب کرے۔ انہوں نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواست ایک سال سے زیر التوا ہونے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ عدالت اپیلوں کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے لیے تیار ہے تاکہ مقدمات کا جلد فیصلہ کیا جا سکے۔ چیف جسٹس نے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ مرکزی اپیل پر دلائل کے لیے 10 دن میں تیاری مکمل کریں۔ عدالت نے واضح کیا کہ جب مرکزی اپیل سماعت کے لیے مقرر ہو جائے تو سزا معطلی کی درخواست غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔

سماعت کے دوران توشہ خانہ سمیت دیگر زیر التوا کیسز پر بھی بات چیت ہوئی اور وکلاء نے مقدمات کی ترجیح کے حوالے سے اپنے دلائل دیے۔ کارروائی کے اختتام پر عدالت نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کا تذکرہ کیا اور سماعت ملتوی کر دی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -