-Advertisement-

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

تازہ ترین

پاکستان کے بحرانوں کا حل آئین اور قانون کی بالادستی میں ہے: شاہد خاقان عباسی

سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش سیاسی...
-Advertisement-

اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے تبادلوں کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر عرفان حیات باجوہ کی جانب سے سینئر وکیل حامد خان کے توسط سے دائر کردہ آئینی درخواست میں ان تبادلوں کو آئینی ضمانتوں کے منافی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ججوں کے تبادلے بغیر کسی شفاف معیار، ٹھوس وجوہات اور ادارہ جاتی ضرورت کے کیے گئے۔ پٹیشن کے مطابق یہ عمل شفافیت کے فقدان اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس سے عدلیہ کی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق جسٹس بابر ستار اور جسٹس محسن اختر کیانی بالترتیب پشاور ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے ان تبادلوں کی منظوری 28 اپریل کو دی تھی، جس کے بعد وزارت قانون نے 29 اپریل کو نوٹیفکیشن جاری کیا۔ ان تبادلوں میں جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی شامل ہیں جنہیں سندھ ہائی کورٹ منتقل کیا گیا ہے۔

نئے روسٹر کے تحت جسٹس محسن اختر کیانی آئندہ ہفتے سے لاہور ہائی کورٹ میں مقدمات کی سماعت کریں گے۔ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل شبیر حسین شاہ کی جانب سے جاری کردہ روسٹر کے مطابق جسٹس کیانی پرنسپل سیٹ پر سنگل بینچ کے طور پر فرائض انجام دیں گے۔ ادھر پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی جانب سے منظور کردہ روسٹر کے مطابق جسٹس بابر ستار پیر کے روز جسٹس وقار احمد کے ساتھ ڈویژن بینچ کا حصہ ہوں گے۔

درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ان تبادلوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے اسے من مانا اور غیر شفاف قرار دیا ہے۔ پٹیشن میں 27 ویں آئینی ترمیم پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور اسے عوامی مینڈیٹ کے منافی قرار دیتے ہوئے عدالتی دائرہ اختیار میں تبدیلی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ ان تبادلوں کو کالعدم قرار دیا جائے اور عدالتی تقرریوں اور تبادلوں کے حوالے سے آئینی فریم ورک کو واضح کیا جائے۔ پٹیشن میں خبردار کیا گیا ہے کہ بغیر متبادل بڑے پیمانے پر تبادلوں سے ادارہ جاتی بحران پیدا ہو رہا ہے جس سے عدلیہ پر عوامی اعتماد مجروح ہونے کا خدشہ ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -