-Advertisement-

اسرائیل کی جانب سے لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ سے جدید لڑاکا طیاروں کی خریداری کی منظوری

تازہ ترین

برطانیہ جانے کی کوشش میں کشتی ڈوبنے سے دو سوڈانی خواتین ہلاک

لندن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شمالی فرانس سے برطانیہ جانے کی کوشش میں دو کم سن خواتین سمندر...
-Advertisement-

اسرائیل نے امریکی کمپنیوں لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ سے جدید ترین ایف 35 اور ایف 15 آئی اے لڑاکا طیاروں کے دو نئے اسکواڈرن کی خریداری کے منصوبے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ دسیوں ارب ڈالر مالیت کا حامل ہے۔

اسرائیل کی وزارتی کمیٹی برائے حصولِ دفاع کی جانب سے دی گئی یہ منظوری 350 ارب شیکل یعنی 119 ارب ڈالر پر مشتمل اس وسیع تر منصوبے کا پہلا حصہ ہے جس کا مقصد ملکی دفاع کو مضبوط بنانا اور آئندہ دہائی کے چیلنجز کے لیے تیاریوں کو یقینی بنانا ہے۔

وزارت دفاع کے ڈائریکٹر جنرل امیر برام کا کہنا ہے کہ جنگی ضروریات کے ساتھ ساتھ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کی عسکری برتری کو آئندہ دس برس اور اس سے آگے تک محفوظ بنائیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تنازع نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے تزویراتی تعلقات اور جدید فضائی طاقت کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔

معاہدے کے تحت اسرائیل لاک ہیڈ مارٹن سے ایف 35 کا چوتھا اسکواڈرن اور بوئنگ سے ایف 15 آئی اے لڑاکا طیاروں کا دوسرا اسکواڈرن حاصل کرے گا۔ اس سے قبل دسمبر میں بوئنگ کے ساتھ 8.6 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا گیا تھا جس میں 25 نئے ایف 15 آئی اے طیاروں کی خریداری اور مزید 25 طیاروں کا آپشن شامل تھا۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ایرانی تنازع نے فضائیہ کی طاقت اور ملکی تحفظ میں اس کے فیصلہ کن کردار کو واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مہم سے حاصل ہونے والے اسباق کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی عسکری صلاحیتوں کو مسلسل بڑھاتے رہیں تاکہ آنے والی دہائیوں تک فضائی برتری قائم رہے۔

وزیر دفاع کے مطابق نئے طیاروں کی شمولیت سے خودکار پرواز کی صلاحیتوں، اگلی نسل کے دفاعی نظام اور خلا میں اسرائیلی فوجی غلبے کے قیام میں نمایاں تکنیکی ترقی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کا مشن آئی ڈی ایف کو ایسے ہتھیار اور صلاحیتیں فراہم کرنا ہے جن کی بدولت وہ کسی بھی وقت اور کہیں بھی کارروائی کرنے کے قابل ہو۔

یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملے کیے تھے جبکہ 8 اپریل سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے۔ اس دوران اسرائیلی طیارے غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -