-Advertisement-

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود اوپیک پلس کا تیل کی پیداوار میں اضافے کا فیصلہ

تازہ ترین

ایران کی قدس فورس کی جانب سے غزہ امدادی قافلے پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت

ایرانی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قائنی نے غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے فلوٹیلا...
-Advertisement-

اوپیک پلس نے جون کے مہینے کے لیے تیل کی پیداوار میں معمولی اضافے پر اتفاق کر لیا ہے تاہم خلیج فارس میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث اس فیصلے کا عملی اطلاق بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

آن لائن اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سات رکن ممالک جون میں تیل کی پیداوار کے اہداف میں یومیہ ایک لاکھ اٹھاسی ہزار بیرل کا اضافہ کریں گے۔ یہ اضافہ مئی کے معاہدے کے مساوی ہے جس میں متحدہ عرب امارات کا حصہ شامل نہیں ہے۔

اوپیک پلس کے ذرائع اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد مارکیٹ کو یہ پیغام دینا ہے کہ گروپ جنگ کے خاتمے کے بعد سپلائی بڑھانے کے لیے تیار ہے اور متحدہ عرب امارات کے انخلا کے باوجود تنظیمی امور معمول کے مطابق جاری ہیں۔

رائسٹڈ کے تجزیہ کار اور اوپیک کے سابق عہدیدار جارج لیون کے مطابق اوپیک پلس مارکیٹ کو دوہرا پیغام دے رہا ہے جس میں یو اے ای کے بغیر بھی تسلسل برقرار رکھنے اور محدود اثرات کے باوجود کنٹرول قائم رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے لیے طے پانے والے نئے معاہدے کے تحت جون میں پیداواری کوٹہ ایک کروڑ دو لاکھ اکانوے ہزار بیرل یومیہ تک پہنچ جائے گا جو کہ مارچ میں ریکارڈ کی گئی 77 لاکھ 60 ہزار بیرل کی اصل پیداوار سے کہیں زیادہ ہے۔

اجلاس میں سعودی عرب، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان، روس اور عمان شامل تھے۔ متحدہ عرب امارات کے نکل جانے کے بعد اب اوپیک پلس کے ارکان کی تعداد 21 ہو گئی ہے تاہم فیصلہ سازی میں صرف مذکورہ سات ممالک ہی متحرک ہیں۔

اٹھائیس فروری سے شروع ہونے والی ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش نے سعودی عرب، عراق اور کویت کی برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ راستے کھلنے کے بعد بھی ترسیل کو معمول پر آنے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔

سپلائی میں خلل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح یعنی 125 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال سے ایک سے دو ماہ کے اندر جیٹ فیول کی قلت اور عالمی سطح پر افراطِ زر میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اوپیک کی رپورٹ کے مطابق مارچ میں تمام ارکان کی مجموعی پیداوار 3 کروڑ 50 لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ رہی جو فروری کے مقابلے میں 77 لاکھ بیرل کم تھی۔ اوپیک پلس کے ارکان کا اگلا اجلاس سات جون کو طلب کیا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -