اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے واضح کیا ہے کہ وہ اٹلی سے امریکی افواج کے انخلا کے کسی بھی ممکنہ فیصلے کی حمایت نہیں کریں گی۔ یریوان میں یورپی پولیٹیکل کمیونٹی کے سربراہی اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میلونی نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے اختیار میں نہیں ہے تاہم وہ ذاتی طور پر اس اقدام سے متفق نہیں ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایک سوال کے جواب میں یہ عندیہ دیا گیا تھا کہ واشنگٹن اٹلی اور اسپین سے اپنی فوجیں واپس بلانے پر غور کر سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیا تھا کہ امریکا جرمنی میں تعینات اپنے دستوں میں کمی پر غور کر رہا ہے اور اس حوالے سے جلد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ بعد ازاں انہوں نے دھمکی دی کہ یہ کٹوتی اٹلی اور اسپین تک بھی پھیلائی جا سکتی ہے۔
اٹلی کی وزیراعظم نے بتایا کہ وہ جلد ہی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گی، جو رواں ہفتے روم کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران مارکو روبیو پوپ لیو سے بھی ملاقات کریں گے۔
صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ایران کے خلاف جاری جنگ پر یورپی اتحادیوں اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ نیٹو کے بیشتر اتحادیوں کو اس جنگ کے آغاز سے قبل اعتماد میں نہ لینے پر یورپ میں امریکی پالیسیوں پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔
