بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی کے چیئرمین غلام حسین سوہو نے میٹرک کے امتحانات میں بے قاعدگیوں کے انکشاف کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ چیئرمین نے اپنا استعفیٰ سیکریٹری سندھ بورڈز ڈیپارٹمنٹ کو بھجوا دیا ہے، جسے وزیر بورڈز کے ذریعے کنٹرولنگ اتھارٹی کو ارسال کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت امتحانی عمل میں بدانتظامی اور بے قاعدگیوں کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہوئی ہے۔ صوبائی وزیر برائے بورڈز اسماعیل راہو کی ہدایت پر قائم کردہ اس تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزارتِ بورڈز و جامعات کو پیش کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بورڈ انتظامیہ نے 170 سے زائد مقامات پر امتحانی مراکز کی تبدیلی میں ملوث پائی گئی۔ ان بے قاعدگیوں میں چیئرمین غلام حسین سوہو سمیت منظور سولنگی، عمران بٹ، راجہ فیاض اور معراج علی جیسے ایجنٹس کے نام شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیڈ ماسٹرز محمد علی، ایوب شانی اور عامر مرتضیٰ نے بھی بورڈ کے کنٹرولر امتحانات کے ذریعے مراکز کی تبدیلی میں معاونت کی۔
تحقیقاتی کمیٹی نے چیئرمین غلام حسین سوہو اور کنٹرولر امتحانات احمد خان چھٹو کو فوری طور پر معطل کرنے اور ان کے خلاف اینٹی کرپشن کے تحت قانونی کارروائی شروع کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں سیکریٹری نوید گجر کے خلاف تادیبی کارروائی اور ڈپٹی کنٹرولر عمران بٹ کے خلاف جاری قانونی عمل کو جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیر بورڈز اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کا دباؤ یا سفارش قبول نہیں کی جائے گی اور تمام فیصلے تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق غلام حسین سوہو نے معطلی سے بچنے کے لیے استعفیٰ دیا ہے تاکہ وہ اپنے بنیادی وفاقی محکمے میں ملازمت جاری رکھ سکیں۔ معطل ہونے کی صورت میں ان کے لیے اپنے پیرنٹ ڈیپارٹمنٹ میں واپسی ممکن نہیں رہتی۔
