-Advertisement-

آبنائے ہرمز میں کشیدگی: امریکی وزیر دفاع کا جنگ بندی برقرار رہنے کا دعویٰ

تازہ ترین

امریکہ نے جنگ کا راستہ چنا، دنیا نتائج بھگت رہی ہے، ایران

تہران نے امریکہ پر جنگ کا راستہ منتخب کرنے کا براہ راست الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے...
-Advertisement-

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ نے منگل کے روز پینٹاگون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکی آپریشن ایک عارضی اقدام ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیر کے روز ایرانی کشتیوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے باوجود جنگ بندی ختم نہیں ہوئی ہے۔ ہیگسیٹ نے زور دیا کہ ایران کو کسی بھی صورت بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو بلاک کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ دنیا کو اس راستے کی اشد ضرورت ہے۔

جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بتایا کہ 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد سے ایران اب تک 10 سے زائد مرتبہ امریکی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے، تاہم یہ واقعات بڑے پیمانے پر جنگ کے آغاز کے لیے کافی نہیں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پروجیکٹ فریڈم کے تحت 15 ہزار امریکی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں گائیڈڈ میزائل تباہ کرنے والے بحری جہاز، 100 جنگی طیارے اور ڈرونز شامل ہیں جنہیں 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کی مدد حاصل ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق پیر کے روز امریکی بحریہ نے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے دوران چھ ایرانی کشتیاں تباہ کیں، جبکہ صدر ٹرمپ نے تباہ ہونے والی کشتیوں کی تعداد سات بتائی ہے۔ دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیر کے روز ان کی کوئی کشتی تباہ نہیں ہوئی۔

صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں مداخلت کی تو اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ اس سے قبل پیر کے روز امریکی بحریہ کے دو تباہ کن جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کے حملوں کو ناکام بنایا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق پیر کے روز ایران نے متحدہ عرب امارات اور ابوظہبی کی سرکاری کمپنی کے ایک آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے، تاہم انہوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا کہ وہ بدخواہوں کے بہکاوے میں آ کر دوبارہ جنگ کی دلدل میں نہ دھنسیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ امن تجاویز فی الحال قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ تہران نے ابھی تک اپنے اقدامات کی مناسب قیمت ادا نہیں کی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -