کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کمپنی کوائن بیس نے منگل کے روز اپنی افرادی قوت میں 14 فیصد کمی کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت 700 ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کیا جائے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اخراجات میں کمی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے پیداواری صلاحیت بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
کوائن بیس کے شریک بانی اور سی ای او برائن آرمسٹرانگ نے ملازمین کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ مارکیٹ کے غیر یقینی حالات کے پیش نظر کمپنی اپنے آپریشنز کو محدود کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمپنی اس وقت مارکیٹ کے مندی کے رجحان سے گزر رہی ہے اور مستقبل میں ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے خود کو مزید مستحکم اور فعال بنانا ضروری ہے۔
برائن آرمسٹرانگ کے مطابق کمپنی اب مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس کی مدد سے کام کو منظم کرے گی اور ایک ایسے ماڈل پر تجربہ کیا جائے گا جس میں ایک ہی شخص انجینئرنگ، ڈیزائن اور پروڈکٹ مینجمنٹ کی ذمہ داریاں بیک وقت نبھا سکے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ کام کا ایک نیا انداز ہے اور ہمیں اپنے ہر شعبے میں مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔
دستاویزی ریکارڈ کے مطابق 2025 کے اختتام پر کوائن بیس کے ملازمین کی تعداد تقریباً 5 ہزار تھی۔ کمپنی ان برطرفیوں کا عمل 2026 کی دوسری سہ ماہی تک مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس عمل کے دوران کمپنی کو 50 سے 60 ملین ڈالر تک کے ری اسٹرکچرنگ اخراجات کا تخمینہ ہے۔
مصنوعی ذہانت کے باعث ملازمتوں میں کٹوتی کرنے والی کمپنیوں کی فہرست میں کوائن بیس تازہ ترین نام ہے۔ اس سے قبل فروری میں جیک ڈورسی کی مالیاتی ٹیکنالوجی کمپنی بلاک نے بھی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے اپنی افرادی قوت میں نصف تک کمی کا اعلان کیا تھا۔ چیگ، کراؤڈ اسٹرائیک اور پن ٹرسٹ جیسی بڑی کمپنیاں بھی مصنوعی ذہانت کو بنیاد بنا کر اپنی افرادی قوت میں کٹوتی کر چکی ہیں۔
