خلیج میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان جھڑپوں اور متحدہ عرب امارات پر نئے حملوں نے ایک ماہ پرانی جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، جس سے بحران کے سفارتی حل کی امیدیں ماند پڑ گئی ہیں۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب واشنگٹن کی جانب سے تنازع ختم کرنے کی تجویز پر تہران کے جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ یہ تنازع 28 فروری کو ایران پر مشترکہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں سے شروع ہوا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز بتایا کہ تین امریکی بحری تباہ کن جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکی جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، البتہ ایرانی حملہ آوروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی تاحال برقرار ہے اور انہوں نے واقعے کی اہمیت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
ایرانی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے جوابی الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایک ایرانی آئل ٹینکر اور دوسرے جہاز کو نشانہ بنا کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایرانی فوج کے مطابق انہوں نے قشم جزیرے اور ساحلی علاقوں پر امریکی فضائی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کے مشرق اور چاہ بہار بندرگاہ کے جنوب میں امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حملوں سے امریکی اثاثوں کو اہم نقصان پہنچا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے کسی بھی اثاثے کے متاثر ہونے کی تردید کی ہے۔
ایران کے پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ چند گھنٹوں کی گولہ باری کے بعد آبنائے ہرمز کے ایرانی جزیروں اور ساحلی شہروں میں صورتحال معمول پر آ گئی ہے۔ 7 اپریل کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے دونوں فریقین کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں اور ایران خلیجی ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات کو نشانہ بناتا رہا ہے۔
تازہ ترین جھڑپوں کے نتیجے میں ایشیا میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا اور برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ دوسری جانب عالمی منڈیوں میں حصص کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹیں اب بھی اس تنازع کے محدود دورانیے کی توقع کر رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اصرار کیا کہ تہران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام کی بندش اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ شامل ہے، جس پر تہران نے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اس بات سے اتفاق کر چکا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
اس جنگ کے باعث امریکا میں پٹرول کی اوسط قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے، جو کہ 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہیں۔ یہ صورتحال صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی چیلنج بن چکی ہے کیونکہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران غیر ملکی جنگوں سے دور رہنے اور ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
