-Advertisement-

یورپی یونین کو تجارتی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے 4 جولائی کی ڈیڈ لائن مقرر

تازہ ترین

ٹرمپ کے دور میں عالمی سطح پر امریکہ کا تاثر روس سے بھی نیچے گر گیا، سروے

ڈنمارک میں قائم الائنس آف ڈیموکریسیز فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ اگر چار جولائی تک تجارتی معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو یورپی مصنوعات بالخصوص گاڑیوں پر محصولات کی شرح میں نمایاں اضافہ کر دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں بتایا کہ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران انہوں نے چار جولائی کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ جولائی میں اسکاٹ لینڈ کے علاقے ٹرن بیری میں طے پانے والے تاریخی تجارتی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے کافی صبر کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔

معاہدے کے تحت یورپی یونین کو امریکی صنعتی اشیاء پر محصولات صفر تک لانا تھے اور زرعی و سمندری مصنوعات کے لیے ڈیوٹی فری کوٹہ فراہم کرنا تھا۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر مقررہ تاریخ تک وعدہ پورا نہ ہوا تو محصولات کی شرح میں فوری طور پر بھاری اضافہ کر دیا جائے گا۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے بھی اس گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین اور امریکہ تجارتی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں اور جولائی کے اوائل تک محصولات میں کمی کے حوالے سے پیش رفت جاری ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کی تجارتی کمیٹی کے چیئرمین برنڈ لینج کے مطابق یورپی ممالک کے درمیان تحفظات کے باوجود ڈیوٹی ختم کرنے کے لیے کام جاری ہے۔ یورپی مذاکرات کاروں کا اگلا دور انیس مئی کو متوقع ہے جس میں معاہدے کو حتمی شکل دینے پر بات چیت کی جائے گی۔

ادھر امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے تنبیہ کی ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے عمل درآمد میں پہلے ہی تاخیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر یورپی یونین نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو صرف گاڑیوں پر محصولات میں اضافے کے علاوہ دیگر اقدامات بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -