-Advertisement-

انڈونیشیا میں آتش فشاں پھٹنے سے دو غیر ملکیوں سمیت تین کوہ پیما ہلاک

تازہ ترین

پوپ لیو کی عالمی رہنماؤں سے کشیدگی کم کرنے اور نفرتیں مٹانے کی اپیل

پوپ لیو نے اپنی سربراہی کے پہلے سال مکمل ہونے کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے...
-Advertisement-

انڈونیشیا کے مشرقی جزیرے ہلماہیرا میں واقع ماؤنٹ ڈوکونو آتش فشاں کے پھٹنے سے دو غیر ملکیوں سمیت تین کوہ پیما ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دس افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ مقامی پولیس چیف ایرلکسن پاساریبو کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک مقامی باشندہ بھی شامل ہے جس کا تعلق ترناتی جزیرے سے تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے میں پانچ کوہ پیما زخمی ہوئے ہیں جبکہ سات افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے بی این پی بی کے ترجمان عبدالوہاری کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں پہاڑی علاقے میں سرچ آپریشن کر رہی ہیں تاہم آتش فشاں کی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

پولیس چیف ایرلکسن پاساریبو نے بتایا کہ متاثرہ علاقہ دشوار گزار ہے جہاں گاڑیاں نہیں پہنچ سکتیں، اس لیے زخمیوں اور لاشوں کو اسٹریچر کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آتش فشاں سے مسلسل دھماکوں کی آوازیں آ رہی ہیں جس کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کی نقل و حرکت سست پڑ گئی ہے۔

جیولوجی ایجنسی کی سربراہ لانا ساریا نے بتایا کہ صبح سویرے ہونے والے اس دھماکے کے بعد دس کلومیٹر اونچا راکھ کا بادل فضا میں بلند ہوا۔ انہوں نے ٹوبیلو شہر اور قریبی رہائشی علاقوں کے مکینوں کو راکھ کی بارش کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ یہ دھواں عوامی صحت اور نقل و حمل کے نظام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

ماؤنٹ ڈوکونو کو انڈونیشیا کے چار سطحی الرٹ سسٹم میں دوسرے درجے پر رکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ ماہ سے اس علاقے کو سیاحوں کے لیے ممنوع قرار دیا گیا تھا اور چار کلومیٹر کے دائرے میں داخلے پر پابندی عائد تھی، تاہم کوہ پیماؤں نے ان تنبیہی نشانات اور سوشل میڈیا پر کی گئی اپیلوں کو نظر انداز کر دیا۔

پولیس چیف نے نشاندہی کی کہ مقامی آبادی خطرے سے آگاہ ہے اور وہاں جانے سے گریز کرتی ہے، لیکن بہت سے غیر ملکی سیاح سوشل میڈیا پر مواد بنانے کے شوق میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ممنوعہ علاقے میں داخل ہو گئے۔ انڈونیشیا پیسیفک رنگ آف فائر پر واقع ہونے کی وجہ سے زلزلے اور آتش فشاں کے پھٹنے کے واقعات کا مرکز رہتا ہے اور ملک میں تقریباً ایک سو تیس فعال آتش فشاں موجود ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -