-Advertisement-

ہینٹا وائرس کا پھیلاؤ: کروز شپ کے مسافروں کی حفاظت کے لیے عالمی ادارہ صحت کی ہنگامی ہدایات

تازہ ترین

غزہ فلوٹیلا کے گرفتار کارکنوں کی رہائی اور ملک بدری کا فیصلہ

گزشتہ ماہ غزہ جانے والے امدادی قافلے کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے روکے جانے کے بعد حراست میں...
-Advertisement-

ہینٹا وائرس کے پھیلاؤ کا شکار ایک کروز شپ ٹینریف کی جانب رواں دواں ہے، جس کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے حکام اتوار کے روز جہاز کے پہنچنے پر تقریباً 150 مسافروں کے لیے خصوصی حفاظتی رہنمائی تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ کسی بھی کروز شپ پر ہینٹا وائرس کا پہلا ریکارڈ شدہ واقعہ ہے، جس میں اب تک 8 مشتبہ یا تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں اور 3 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کروز شپ آپریٹر کے مطابق فی الحال جہاز پر موجود کسی بھی مسافر میں وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ عالمی ادارہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کو معمول کے عوامی صحت کے اقدامات کے ذریعے قابو میں لایا جا سکتا ہے، جس میں بیمار مسافروں کو الگ کرنا اور ان کے رابطے میں رہنے والوں کی نگرانی شامل ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے شعبہ الرٹ اینڈ رسپانس کوآرڈینیشن کے ڈائریکٹر عبدی رحمان محمود کا کہنا ہے کہ ارجنٹائن میں 2019 کے دوران اینڈیز وائرس کے پھیلاؤ کے تجربات سے سیکھ کر اس وائرس کی منتقلی کے سلسلے کو توڑا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وبا کو بڑے پیمانے پر پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے، بشرطیکہ متاثرہ افراد کو قرنطینہ کیا جائے اور دیگر مسافروں کی کڑی نگرانی کی جائے۔

تکنیکی افسر برائے وائرل تھریٹس، انائس لیگنڈ نے آن لائن بریفنگ کے دوران بتایا کہ چونکہ اینڈیز وائرس کا انکیوبیشن پیریڈ طویل ہوتا ہے، اس لیے متاثرہ افراد کو 42 روز تک روزانہ اپنا درجہ حرارت چیک کرنے کی ہدایت کی جا سکتی ہے۔ حکام مسافروں کو ان کے رابطوں کی بنیاد پر ہائی رسک اور لو رسک زمروں میں تقسیم کر رہے ہیں تاکہ رابطوں کا سراغ لگایا جا سکے۔

ماؤنٹ سینائی کے آئیکن اسکول آف میڈیسن کے پروفیسر گستاوو پالاسیوس نے کہا کہ سماجی دوری اور علامات ظاہر ہونے پر خود کو الگ کر لینا ہی اس وائرس کے خاتمے کا موثر ترین طریقہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہینٹا وائرس کی شرح اموات 50 فیصد تک ہو سکتی ہے۔

برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ خصوصی پرواز کے ذریعے واپس لائے گی، جس کے بعد انہیں 45 روز تک قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وہ حتمی گائیڈ لائنز کو جلد مکمل کر لے گا تاکہ ٹینریف پہنچنے والے مسافروں کو محفوظ طریقے سے سنبھالا جا سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -