وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران خودکش حملہ آور خاتون کو گرفتار کر کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو بڑے سانحے سے بچا لیا ہے۔ پیر کے روز کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ دہشت گردوں نے خاتون کو بلیک میل کر کے خودکش حملے کے لیے تیار کیا تھا۔
سرفراز بگٹی کے مطابق کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر خاتون کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس خوفناک منصوبے کو ناکام بنایا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گرد گروپ اب خواتین کو ہنی ٹریپ اور بلیک میلنگ کے ذریعے استعمال کر رہے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ گرفتار خاتون کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر اس نے حملہ کرنے سے انکار کیا تو اس کے والد کو قتل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے اقدامات کا بلوچ ثقافت یا روایات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور معصوم بچیوں کو بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران سرفراز بگٹی نے بتایا کہ گرفتار خاتون نے تفتیش کے دوران اسلام آباد میں خودکش حملے کے مشن کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم حالات اور بلیک میلنگ کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ خاتون کو اس کے والد کے حوالے کیا جائے تاکہ اسے بحالی کا موقع مل سکے اور وہ نارمل زندگی گزار سکے۔
سرفراز بگٹی نے سیکیورٹی فورسز اور انٹیلیجنس اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مستعدی نے ملک کو ایک بڑی تباہی سے محفوظ رکھا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردوں کے پروپیگنڈے اور بلوچ شناخت کے نام پر معصوم لوگوں کو استعمال کرنے کے ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ریاست دشمن عناصر کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
