-Advertisement-

ویانا میں یورو ویژن گانے کے مقابلے کا آغاز، اسرائیل کی شرکت پر تنازع برقرار

تازہ ترین

ہینٹا وائرس کا خطرہ تشویشناک نہیں، امریکی سی ڈی سی حکام کا بیان

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے قائم مقام ڈائریکٹر جے بھٹاچاریہ نے ہینٹا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ...
-Advertisement-

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں سترویں یورو ویژن سونگ کانٹیسٹ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے جس کے ساتھ ہی ہزاروں موسیقی کے شائقین شہر میں امڈ آئے ہیں۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر روایتی سرخ قالین کی جگہ فیروزی رنگ کے قالین پر 35 ممالک کے وفود کا مارچ کرایا گیا۔ شہر کے نیو گوتھک سٹی ہال کے باہر سیکیورٹی کے سخت حصار میں نصب بڑی اسکرینوں پر مقابلے کی سات دہائیوں پر محیط یادگار پرفارمنس دکھائی گئیں۔ منتظمین کو توقع ہے کہ اس سال 17 کروڑ سے زائد افراد ٹیلی ویژن اور آن لائن اس مقابلے کو دیکھیں گے جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے ویوز کی تعداد اربوں تک پہنچنے کا امکان ہے۔

میلہ سجے ہونے کے باوجود مقابلہ اسرائیل کی شرکت پر پیدا ہونے والے تنازعات کی زد میں ہے۔ سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو حماس کے حملے اور اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے ردعمل میں اسپین، آئرلینڈ، آئس لینڈ، نیدرلینڈز اور سلووینیا سمیت کئی ممالک نے مقابلے کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ پیٹر گیبریل اور میسو اٹیک جیسے معروف فنکاروں سمیت ایک ہزار سے زائد موسیقاروں نے بائیکاٹ کی حمایت کی ہے، جبکہ ویانا میں فلسطین کے حق میں مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں۔

سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر آسٹرین حکام نے شہر بھر میں سیکڑوں پولیس اہلکار تعینات کر دیے ہیں جو ہفتے کے روز ہونے والے فائنل تک فرائض سرانجام دیں گے۔ جرمنی کے وزیر ثقافت وولفرام ویمر نے اسرائیل کے بائیکاٹ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے اعلیٰ سیاسی سطح پر اسرائیل کی شرکت کا دفاع کیا ہے۔

دوسری جانب یورپی براڈکاسٹنگ یونین نے ووٹنگ کے عمل میں شفافیت برقرار رکھنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ یورو ویژن کے ڈائریکٹر مارٹن گرین نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی نشریاتی ادارے کے اے این کو ان ویڈیوز پر انتباہ جاری کیا گیا ہے جن میں ناظرین کو اسرائیل کے حق میں بار بار ووٹ دینے کی ترغیب دی گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مقابلے کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

سیاسی ہنگامہ خیزی کے باوجود سٹے بازوں نے فن لینڈ کو اس سال کے مقابلے کا فیورٹ قرار دیا ہے۔ فن لینڈ کے پیٹ پارکونن اور وائلن نواز لنڈا لیمپیئس کی جوڑی کو خصوصی اجازت دی گئی ہے کہ وہ ریکارڈ شدہ موسیقی کے بجائے براہ راست وائلن بجا سکیں۔ گزشتہ سال کی فاتح ہونے کے ناطے آسٹریا، جبکہ جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ مالی معاونت کے باعث فائنل کے لیے براہ راست کوالیفائی کر چکے ہیں۔ مقابلے کا گرینڈ فائنل سولہ مئی کو منعقد ہوگا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -