-Advertisement-

قومی اسمبلی کی جانب سے معرکہ حق کی برسی پر مسلح افواج کو خراجِ تحسین

تازہ ترین

ہینٹا وائرس کا خطرہ تشویشناک نہیں، امریکی سی ڈی سی حکام کا بیان

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے قائم مقام ڈائریکٹر جے بھٹاچاریہ نے ہینٹا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ...
-Advertisement-

قومی اسمبلی نے پیر کے روز متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور آپریشن بنیان المرصوص کے دوران عسکری قیادت کے ردعمل کو سراہا گیا۔ اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں یہ قرارداد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کی۔

قرارداد میں ایوان نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا اور پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف بھارت کی جانب سے چلائی گئی جھوٹی مہم کی مذمت کی۔ ایوان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی جانب سے شفاف تحقیقات کی پیشکش کے باوجود بھارت کا رویہ غیر ذمہ دارانہ رہا۔

ایوان نے آپریشن بنیان المرصوص کے دوران پاک فوج کے متوازن اور فوری ردعمل کو سراہتے ہوئے ان تمام افسران اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے جرأت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ قرارداد میں دعویٰ کیا گیا کہ جے ٹین سی لڑاکا طیاروں نے بھارتی عسکری اثاثوں کو نشانہ بنایا اور دشمن کو پسپائی پر مجبور کیا۔

اسپیکر ایاز صادق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے رات کی تاریکی میں حملے کیے جبکہ پاکستان نے دن کی روشنی میں جواب دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا اب جان چکی ہے کہ پہلگام واقعہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا۔ اجلاس کا آغاز دہشت گردی کے واقعات اور بنوں سانحے میں شہید ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی سے ہوا۔

ایک جانب حکومتی اراکین نے معرکہ حق کی سالگرہ پر اظہار خیال کیا تو دوسری جانب اپوزیشن نے پیٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ ایوان میں مہنگائی کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ پیپلز پارٹی کے قادر پٹیل اور نبیل گبول نے گیس کی تقسیم کے مسائل اور کے الیکٹرک کے معاملات پر تنقید کی۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو سیاسی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ جے یو آئی ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسے وقت میں جشن کیسے منایا جا سکتا ہے جب ملک میں تشدد اور قتل و غارت جاری ہے۔ انہوں نے دینی مدارس کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں کو مسترد کیا اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

صحافیوں کی برطرفیوں کے خلاف میڈیا نمائندوں نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ متعلقہ ٹی وی چینل کے سرکاری اشتہارات معطل کر دیے گئے ہیں۔ ایوان نے سول سرونٹس، سٹینڈرڈ ٹائم اور لوک ورثہ ترمیمی بل بھی منظور کیے جس کے بعد اجلاس منگل کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -