واشنگٹن سے وائٹ ہاؤس کے حکام کے مطابق ارب پتی اور سابقہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار ایلون مسک رواں ہفتے چین کا دورہ کرنے والے امریکی وفد کا حصہ ہوں گے۔ اس اعلیٰ سطحی وفد میں کئی نامور کاروباری شخصیات شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ انتہائی اہم ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی منڈیوں اور سپلائی چین میں شدید غیر یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے۔ وفد میں شامل ایلون مسک سمیت دیگر کاروباری رہنماؤں کے چین میں وسیع تر کاروباری مفادات وابستہ ہیں۔
پیر کے روز اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس دورے کے دوران معاشی اور توانائی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ انہوں نے چینی صدر کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اب ہوشمندی پر مبنی کاروبار ہو رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ماضی میں امریکہ کو نظر انداز کیا جاتا رہا لیکن اب چین کے ساتھ تجارت سے امریکہ کو خاطر خواہ منافع حاصل ہو رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے پیش نظر اپنے دورہ چین کو پہلے ملتوی کر دیا تھا۔ انہوں نے پیر کے روز جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجویز پر ایرانی ردعمل کو ناقابل قبول اور فضول قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے موجودہ جنگ بندی کو انتہائی کمزور اور مصنوعی سہارے پر کھڑا قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔
