نیشنل اسٹیل کمپلیکس لمیٹڈ کے وفد نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے ملاقات کی جس میں صنعتی مسابقت، محصولات کے تعین، ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ اور اسٹیل و انجینئرنگ کے شعبوں کو درپیش آپریشنل مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد نے وزیر تجارت کو آگاہ کیا کہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز سے تیار شدہ مصنوعات کی ٹیرف ایریا میں واپسی پر کسٹم ڈیوٹی کا موجودہ نظام دہری ٹیکسیشن کا باعث بن رہا ہے۔ وفد کے مطابق خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی کی ادائیگی کے بعد تیار مصنوعات پر دوبارہ ڈیوٹی عائد ہونے سے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے جو بالخصوص فیبریکیشن، کوٹنگ اور مشینی کاموں سے وابستہ صنعتوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
وفد نے تجویز پیش کی کہ ڈیوٹی کا اطلاق حتمی مصنوعات کی کل مالیت کے بجائے صرف اس اضافی قدر پر ہونا چاہیے جو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے اندر پیدا کی گئی ہو۔ اس کے علاوہ کسٹم ویلیویشن اور مصنوعات کی درجہ بندی سے متعلق تکنیکی پیچیدگیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
ملاقات کے دوران نیشنل ٹیرف کمیشن کے کردار پر وضاحت کی گئی کہ یہ ادارہ محصولات سے متعلق معاملات میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی برآمد کنندگان کی غیر منصفانہ تجارتی سرگرمیوں کے خلاف مقامی صنعتوں کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔
وفد نے وفاقی وزیر کو توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بدلتے ہوئے معاشی حالات اور ٹیرف کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کے باعث طویل مدتی صنعتی منصوبوں کو درپیش مشکلات سے بھی آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر تجارت نے وفد کے تحفظات کو غور سے سنا اور ان کے حل کے لیے تجاویز کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔
