واشنگٹن میں پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ ایران میں جاری امریکی جنگ کے اخراجات 29 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں جاری کردہ تخمینے کے مقابلے میں اس رقم میں چار ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ یاد رہے کہ 29 اپریل کو پینٹاگون نے جنگ کے اخراجات کا تخمینہ 25 ارب ڈالر بتایا تھا۔
کمپٹرولر کے فرائض سرانجام دینے والے جولس ہرسٹ نے قانون سازوں کو بتایا کہ اخراجات میں اضافے کی وجہ عسکری سازوسامان کی مرمت، تبدیلی اور آپریشنل اخراجات کا نیا تخمینہ ہے۔ انہوں نے یہ بات وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے ہمراہ پریس بریفنگ کے دوران کہی۔
جولس ہرسٹ کا کہنا تھا کہ جوائنٹ سٹاف اور کمپٹرولر کی ٹیمیں مسلسل اخراجات کے تخمینوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ تاہم پینٹاگون کی جانب سے 29 ارب ڈالر کے اعداد و شمار تک پہنچنے کا طریقہ کار تاحال واضح نہیں ہے۔
اس پیش رفت نے امریکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو چھ ماہ بعد ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس عوامی سروے میں اپنی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگی اخراجات کو مہنگائی کے مسائل سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مارچ میں ایک باخبر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی تخمینے کے مطابق جنگ کے پہلے چھ دنوں میں ہی کم از کم 11 اعشاریہ تین ارب ڈالر خرچ ہو چکے تھے۔
