میرپور ٹیسٹ میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں پاکستان کی شکست محض ایک مایوس کن نتیجہ نہیں بلکہ قومی ٹیسٹ کرکٹ میں موجود گہرے نقائص کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ناقص کپتانی، کمزور بیٹنگ لائن اپ اور بے اثر فاسٹ بولنگ نے پہلے ہی روز سے ٹیم کی ناکامی کے واضح اشارے دے دیے تھے۔
سب سے بڑا سوال کپتان شان مسعود کے فیصلوں پر اٹھتا ہے۔ میرپور کی وکٹ پر، جس کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید خراب ہوگی، پاکستان کا پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر تھا۔ پانچویں دن کی مشکل پچ پر 268 رنز کا ہدف حاصل کرنا کسی بھی ایسی ٹیم کے لیے ناممکن تھا جس کی بیٹنگ لائن اپ پہلے ہی مستقل مزاجی کے فقدان کا شکار ہو۔
پاکستان کے پاس اس وقت ایسے فاسٹ بولرز کا فقدان ہے جو اپنی رفتار اور جارحیت سے بلے بازوں کو خوفزدہ کر سکیں۔ مخالف ٹیم کے بلے باز پاکستانی پیسرز کے خلاف انتہائی آرام دہ نظر آتے ہیں اور وکٹیں حاصل کرنے کا تسلسل برقرار نہیں رہتا۔ ہوم کنڈیشنز میں اسپنرز کا سہارا لے کر فاسٹ بولنگ کی کمزوریوں کو چھپایا جاتا ہے، لیکن بیرون ملک جہاں پیسرز کو فرنٹ لائن پر ہونا چاہیے، وہاں ٹیم کی کمزوریاں کھل کر سامنے آ جاتی ہیں۔
بنگلہ دیشی بلے بازوں کو پراعتماد بنانے میں پاکستان کی ناقص فیلڈنگ کا بھی ہاتھ رہا، جس کی پہلی اننگز میں 37 ایکسٹرا رنز اس بات کا ثبوت ہیں۔ بیٹنگ کی بات کی جائے تو ڈیبیو کرنے والے اذان اور عبداللہ کے سوا کوئی بھی بلے باز متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکا۔ امام الحق، شان مسعود اور سعود شکیل جیسے سینئر بلے بازوں سے ذمہ دارانہ کھیل کی توقع تھی، لیکن وہ ٹیم کو استحکام فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
اگرچہ آغا سلمان اور محمد رضوان کی نصف سنچریوں نے پہلی اننگز میں ٹیم کو بڑے ٹوٹل سے بچایا، مگر وہ کھیل پر گرفت مضبوط نہ کر سکے۔ پاکستان کے پاس پہلی اننگز میں برتری حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا، لیکن مڈل اور لوئر آرڈر کے غیر ذمہ دارانہ شاٹس نے یہ فائدہ ضائع کر دیا۔
پاکستان کی ٹیل اینڈرز (آخری نمبر کے بلے باز) کی مزاحمت نہ کرنا بھی شکست کی بڑی وجہ بنی۔ بنگلہ دیش نے پہلی اننگز میں آخری وکٹ کے لیے 29 رنز جوڑے، جبکہ پاکستانی ٹیل اینڈرز کی جانب سے ایسی کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہ ٹیم کے اندر جیت کی بھوک اور لڑنے کے جذبے کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ شان مسعود الیون کی جانب سے ایک انتہائی اوسط درجے کی کارکردگی تھی۔ جب تک ٹیم منصوبہ بندی، نظم و ضبط اور ذہنی سختی کا مظاہرہ نہیں کرتی، تب تک بیرون ملک فتوحات کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔
