جنوبی چین کے شہر ژوہائی میں قائم ایک جدید ترین کارخانے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس خواب کو چیلنج کر دیا ہے جس کے تحت وہ چینی سرمایہ کاری کے ذریعے امریکہ میں بلیو کالر ملازمتوں کی بحالی کے خواہاں ہیں۔ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان متوقع اہم ملاقات سے قبل یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ مینوفیکچرنگ کا مستقبل اب انسانوں کے بجائے مصنوعی ذہانت اور روبوٹس کے ہاتھ میں ہے۔
ژی نامی کمپنی کے اس وسیع و عریض کارخانے میں پندرہ سو فٹ لمبی اسمبلی لائن پر سینکڑوں خودکار روبوٹک بازو ہر دس سیکنڈ میں ایئر کنڈیشننگ یونٹس کے چار ہزار پرزے جوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسے ڈارک فیکٹری کا نام دیا گیا ہے جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے بغیر کسی انسانی مداخلت کے کام کرتی ہے۔
کمپنی کے جنرل منیجر چن ہواڈونگ کا کہنا ہے کہ یہ مستقبل کی ذہین فیکٹریوں کا نمونہ ہے جہاں ہر کام ریئل ٹائم میں روبوٹس کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق چین اب نہ صرف معیاری مصنوعات بلکہ جدید ترین فیکٹریوں کی تیاری میں بھی مہارت رکھتا ہے۔
اس کارخانے کی حیران کن بات یہ ہے کہ جو کام پہلے دس ہزار مزدور کیا کرتے تھے اب وہاں صرف ایک ہزار افراد کی ضرورت رہ گئی ہے جن میں سے زیادہ تر انجینئرز ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ کس تیزی سے مشینیں انسانی افرادی قوت کی جگہ لے رہی ہیں۔
چن ہواڈونگ کا مزید کہنا ہے کہ مستقبل میں جسمانی مشقت کا کام کم سے کم ہوتا جائے گا اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والی مشینری کو برقرار رکھنے کے لیے ہنر مند افراد کی طلب میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر فیکٹریاں خودکار نظام کی جانب منتقل ہو رہی ہیں جس سے ڈیزائن، منصوبہ بندی اور دیکھ بھال کے لیے انجینئرز کی بڑی تعداد درکار ہوگی۔
چین پہلے ہی عالمی مینوفیکچرنگ آؤٹ پٹ کے تیس فیصد حصے کا حامل ہے اور توقع ہے کہ آئندہ چار برسوں میں یہ شرح پچاس فیصد تک پہنچ جائے گی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکی افرادی قوت اس تکنیکی تبدیلی اور تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے خود کو تیار کر سکے گی۔
