-Advertisement-

امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

تازہ ترین

اسلام آباد، پنجاب اور بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور آندھی کا امکان

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے پنجاب،...
-Advertisement-

واشنگٹن میں امریکی سینیٹ نے بدھ کے روز ایک ایسی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے جس کا مقصد صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں توسیع سے روکنا تھا۔ ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن کو چار ہفتے مکمل ہونے کے قریب ہیں، تاہم سینیٹ میں اس قرارداد کے حق میں مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہو سکی۔

قرارداد کے خلاف 47 کے مقابلے میں 53 ووٹ ڈالے گئے۔ یہ تیسرا موقع ہے جب ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے فوجی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش ناکام ہوئی ہے۔ سینیٹر جان فیٹرمین واحد ڈیموکریٹ تھے جنہوں نے اپنی جماعت کے موقف کے برعکس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے قرارداد کی حمایت کی۔

نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کوری بکر کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد میں صدر کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ ایران کے اندر یا اس کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں، الا یہ کہ کانگریس کی جانب سے باقاعدہ جنگ کا اعلان یا فوجی طاقت کے استعمال کی خصوصی اجازت موجود ہو۔ تاحال کانگریس نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی کوئی منظوری نہیں دی ہے۔

یہ ووٹنگ ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ریپبلکن ارکان انتخابی قانون سازی پر طویل بحث میں مصروف ہیں اور صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ جب تک یہ اقدام منظور نہیں ہوتا، وہ کسی اور بل پر دستخط نہیں کریں گے۔ ڈیموکریٹس نے ضابطہ کار کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس قرارداد پر ووٹنگ کروانے میں کامیابی حاصل کی۔

اس سے قبل چار مارچ کو سینیٹر ٹم کین کی جانب سے پیش کردہ اسی نوعیت کی ایک قرارداد بھی ناکام ہو چکی ہے۔ گزشتہ جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں کے بعد سے یہ دوسرا موقع ہے جب ایوان بالا نے صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کو مسترد کیا ہے۔

ایران کے ساتھ جاری تناؤ کو ایک ماہ مکمل ہونے کے قریب ہے، تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے تاحال کوئی واضح انخلا کی حکمت عملی پیش نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی انہوں نے زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی لیکن انہوں نے اس کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی ہے۔

سینیٹر کرس مرفی نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر عوامی سماعتوں سے اس لیے گریز کر رہی ہے کیونکہ انہیں عوامی حمایت کھونے کا ڈر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اس جنگ کا دفاع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور انہیں امریکی عوام کو ایندھن کی بلند قیمتوں اور جنگی مقاصد کے بارے میں جواب دینا پڑے گا۔

ادھر ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ نے ایران کی جانب سے امریکہ کو لاحق فوری خطرے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے دعووں پر براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ انتظامیہ اور ریپبلکن ارکان کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملوں کا حکم دے کر اپنے قانونی اختیارات کا استعمال کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کانگریس کو لکھے گئے ایک خط میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے خلاف اقدامات امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس وقت فوجی آپریشن کے مکمل دائرہ کار اور دورانیے کا تعین کرنا ممکن نہیں ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -