برطانوی نشریاتی ادارے کے میزبان پیئرز مورگن اپنے شو پیئرز مورگن اَن سینسرڈ کے دوران سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیریسن سلیوان کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد اسٹوڈیو سے باہر نکل گئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سلیوان نے انٹرویو کے دوران مورگن کی اہلیہ کو گفتگو کا موضوع بنایا۔
انٹرویو کا آغاز اس وقت کشیدہ ہوا جب پیئرز مورگن نے سلیوان کے ماضی کے متنازع بیانات پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ مورگن نے سلیوان کی جانب سے جنسی رجحان کی بنیاد پر بچوں کو عاق کرنے کے نظریات کو کھلے عام ہم جنس پرستی کے خلاف قرار دیا۔ اس کے جواب میں سلیوان نے جیفری ایپسٹین سے جڑے سازشی دعوے کیے جنہیں مورگن نے سختی سے مسترد کر دیا۔
مورگن نے وضاحت کی کہ وہ نہ تو کبھی جیفری ایپسٹین سے ملے اور نہ ہی کبھی ان کے جزیرے پر گئے، البتہ انہوں نے گسلین میکسویل سے مختصر ملاقات کا اعتراف کیا۔ تلخی اس وقت مزید بڑھ گئی جب سلیوان نے اپنے موبائل فون پر پیئرز مورگن کی اہلیہ اور صحافی سیلیا والڈن کی سن 2022 کی ایک تصویر دکھا کر ان کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔
ذاتی حملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پیئرز مورگن نے کہا کہ یہ گفتگو بے معنی ہے اور وہ اسے مزید جاری نہیں رکھ سکتے۔ اس کے فوراً بعد مورگن اپنی نشست سے اٹھے اور اسٹوڈیو سے باہر چلے گئے۔
سلیوان، جو اس وقت اپنے پلیٹ فارم پر لائیو سٹریمنگ کر رہے تھے، اس صورتحال پر ہنستے ہوئے نظر آئے۔ انٹرویو کے دوران مورگن نے سلیوان کو احمق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ ناظرین اس معاملے پر منقسم نظر آتے ہیں، جہاں ایک جانب لوگ مورگن کے اقدام کی حمایت کر رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے خاندان کے تقدس کی خاطر انٹرویو ختم کیا، وہیں دوسری جانب اس بحث نے لائیو انٹرویوز کے اخلاقی حدود اور انفلوئنسرز کے رویوں پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
