واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا موازنہ دہائیوں قبل پرل ہاربر پر ہونے والے جاپانی حملے سے کیا ہے۔ جاپانی وزیراعظم سنائے تاکائچی کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے اپنے جنگی منصوبوں کو اتحادیوں سے خفیہ رکھنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔
صحافیوں کی جانب سے اس سوال پر کہ انہوں نے اتحادیوں کو پیشگی اطلاع کیوں نہیں دی، صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں حیران کن اقدام درکار تھا اور اس حوالے سے جاپان سے بہتر کون جان سکتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں جاپانی وزیراعظم سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ حیران کن اقدامات پر ہم سے کہیں زیادہ یقین رکھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان پر جاپانی وزیراعظم سنائے تاکائچی کی حیرت واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔ یہ واقعہ سات دسمبر 1941 کو پیش آیا تھا جب جاپان نے ہوائی میں واقع امریکی بحری اڈے پرل ہاربر کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں دو ہزار تین سو نو امریکی ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد امریکہ نے باضابطہ طور پر جاپان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا تھا۔
اس وقت کے امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے اس واقعے کو ایک ایسی تاریخ قرار دیا تھا جو ہمیشہ رسوائی کے ساتھ یاد رکھی جائے گی۔ اگست 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکی ایٹمی حملوں کے بعد جاپان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں لاکھوں شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل واضح کیا ہے کہ وہ کہیں بھی مزید فوج تعینات کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور انہوں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے توانائی کے مراکز پر حملوں سے گریز کرے۔
