-Advertisement-

ایران کے ساتھ کشیدگی: اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی

تازہ ترین

پاکستان کا اقوام متحدہ میں بھارتی بیان مسترد، پانی کو ہتھیار بنانے کے اقدام پر انتباہ

پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارت کے بے بنیاد دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے...
-Advertisement-

یروشلم کے قدیم شہر کے دروازوں پر سینکڑوں فلسطینی مسلمانوں نے عید الفطر کی نماز ادا کی۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے پیش نظر مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کو عام شہریوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ 1967 میں مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے رمضان کے آخری دس دنوں اور عید کے موقع پر مسجد اقصیٰ کو بند رکھا گیا ہے۔

ساٹھ سالہ فلسطینی شہری وجدی محمد شویکی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم سے مسجد اقصیٰ چھین لی گئی ہے اور یہ رمضان انتہائی دکھ اور تکلیف میں گزرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال یروشلم کے رہائشیوں، مجموعی طور پر فلسطینیوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک المیہ ہے۔

اسرائیل اور امریکا کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی حکام نے سیکیورٹی خدشات کا جواز بنا کر مسجد اقصیٰ، چرچ آف دی ہولی سیپلچر اور ویسٹرن وال تک رسائی بند کر رکھی ہے۔ ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر حکام نے ملک بھر میں 50 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر رکھی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان کو روکا جا سکے۔

عید کی صبح جب نمازی جائے نماز اٹھائے مسجد اقصیٰ پہنچے تو اسرائیلی پولیس نے انہیں شہر کے دروازوں پر روک لیا۔ پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور کم از کم دو بار آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے۔ تاہم بعد ازاں پولیس کی جانب سے کچھ دیر کے لیے نرمی برتے جانے پر نمازیوں نے ہیروز گیٹ کے قریب سڑک پر نماز ادا کی۔

نماز کے دوران امام نے مختصر خطبہ دیتے ہوئے اللہ سے مظلوموں کی فتح کے لیے دعا کی۔ عام دنوں میں عید کے موقع پر ایک لاکھ کے قریب نمازی مسجد اقصیٰ کا رخ کرتے ہیں، لیکن اس بار محض چند سو افراد ہی وہاں تک پہنچ پائے۔

اسرائیلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ ہائی الرٹ کے باوجود سڑک پر نماز کی اجازت دی گئی، تاہم جب ہجوم نے سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی تو انہیں منتشر کیا گیا۔ دوسری جانب فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر مسجد اقصیٰ تک رسائی کے قواعد کو مستقل طور پر تبدیل کیا جا رہا ہے۔

بیت حنینا سے آئے ہوئے عالم دین ایمن ابو نجم نے کہا کہ قابض قوت نے اپنے مفادات کے لیے مسجد کے دروازے بند کیے ہیں اور یہ تاریخ میں مسجد اقصیٰ کی بندش کا طویل ترین دورانیہ ہے۔ نمازی زیاد مونا کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ کے بغیر رمضان کا گزرنا ایک ٹوٹے ہوئے دل کا احساس دلاتا ہے جو انتہائی غمگین کر دینے والا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -