-Advertisement-

لندن: یہودی فلاحی تنظیم کی 4 ایمبولینسوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا، نفرت انگیز جرم قرار

تازہ ترین

لبنان سرحد پر اسرائیلی فوج کی اپنی ہی فائرنگ سے شہری ہلاک

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ لبنان کی سرحد پر اتوار کے روز ہلاک ہونے والا شہری عوفر...
-Advertisement-

لندن میں یہودی ایمبولینس سروس کی گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے واقعے کے بعد پولیس نے اسے نفرت انگیز جرم قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پیر کی صبح پیش آنے والے اس واقعے میں گولڈرز گرین کے علاقے میں کھڑی ہٹزولا نارتھ ویسٹ نامی رضاکار تنظیم کی چار ایمبولینسیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔

لندن فائر بریگیڈ کے مطابق گاڑیوں میں موجود گیس سلنڈر پھٹنے سے قریبی رہائشی عمارت کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر آس پاس کے گھروں کو خالی کروا لیا گیا تھا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ سارہ جیکسن نے بتایا کہ اس واقعے میں ملوث تین مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

مقامی رہائشی مارک ریزنر نے بتایا کہ دھماکوں کی آواز اتنی شدید تھی کہ وہ محسوس کی جا سکتی تھی اور اس واقعے نے پورے علاقے کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ شومریم نامی تنظیم نے اسے ایک ایمرجنسی سروس پر ٹارگٹڈ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں یہود دشمنی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ دو ہزار تیئس میں اسرائیل حماس جنگ کے آغاز کے بعد سے برطانیہ میں یہود دشمنی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کمیونٹی سیکیورٹی ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار بائیس میں ایسے واقعات کی تعداد ایک ہزار چھ سو باسٹھ تھی جو دو ہزار پچیس میں بڑھ کر تین ہزار سات سو تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل اکتوبر دو ہزار پچیس میں مانچسٹر میں عبادت گاہ کے باہر پیش آنے والے ایک حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -