-Advertisement-

ایران پر حملے میں پانچ روزہ وقفہ: ٹرمپ کا فیصلہ، کشیدگی میں عارضی ٹھہراؤ

تازہ ترین

چین کا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ، ‘خطرناک چکر’ شروع ہونے کا انتباہ

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو آبنائے ہرمز کو تمام جہاز رانی کے لیے...
-Advertisement-

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے چوبیسویں روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس اقدام نے جاری کشیدگی میں ایک عارضی تزویراتی وقفے کو جنم دیا ہے، جس سے اڑتالیس گھنٹے کی ڈیڈ لائن ایک غیر یقینی صورتحال میں بدل گئی ہے۔

واشنگٹن کے اس رویے میں تبدیلی کسی ایرانی پیش رفت کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی معلوم ہوتی ہے۔ تہران نے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو خلیجی خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات، بشمول اہم تنصیبات اور ڈی سیلینیشن پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا، جبکہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا امکان بھی موجود ہے۔

اس وقفے کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ امریکہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور جنگ کے بھاری مالی بوجھ نے واشنگٹن کو دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔ اس کے علاوہ، اتحادیوں کی جانب سے عملی عسکری تعاون کا فقدان اور ایرانی حملوں کے نتیجے میں خطے میں نگرانی کے نظام کی کمزوریوں کے بے نقاب ہونے نے امریکی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

فوجی نقطہ نظر سے یہ وقفہ تیاریوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی فوجیوں اور اثاثوں کی علاقائی اڈوں کی جانب منتقلی اور ساحلی علاقوں میں ممکنہ کارروائیوں کے لیے پیشگی پوزیشننگ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ واشنگٹن اب بھی متبادل آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ ایرانی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی توجہ جزیرہ خارگ کے بجائے جنوبی ساحلی پوزیشنوں پر مرکوز ہو سکتی ہے۔

زمینی حقائق البتہ مختلف ہیں۔ امریکی فیصلے کا اطلاق صرف ایرانی توانائی کے مراکز تک محدود رہا، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے اندر اور جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری ہیں۔ خارگ اور ٹنب جزائر کے قریب میزائل تنصیبات پر حملے اور دریائے لیتانی کے جنوب میں زمینی لڑائی کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور خلیجی ممالک میں بھی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز پر تہران کا کنٹرول برقرار ہے۔ ایران نے غیر جانبدار جہازوں کو سخت نگرانی میں گزرنے کی اجازت دی ہے جبکہ امریکی اور اسرائیلی اتحاد سے منسلک جہازوں کو روکا جا رہا ہے۔ خطے کے عوامی حلقوں میں اس وقفے کو کسی بڑی تبدیلی کے بجائے ایک تزویراتی تاخیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سفارتی محاذ پر بھی کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی۔ ایران اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے جس میں علاقائی تصفیے، جنگی ہرجانے کی ادائیگی اور آبنائے ہرمز کے لیے نئے فریم ورک کا مطالبہ شامل ہے۔ چوبیسویں دن کے اختتام پر یہ واضح ہے کہ پانچ روزہ وقفے نے تنازع کی رفتار تو تبدیل کی ہے لیکن اس کا رخ نہیں بدلا۔ صدر ٹرمپ کا فیصلہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ تہران کے غیر لچکدار رویے کے باعث جنگ کا دائرہ کار مزید وسیع ہونے کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ فی الحال یہ جنگ تحمل اور دوبارہ شدت اختیار کرنے کے درمیان معلق ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -