امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے امریکی فوج کی ایلیٹ 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں اہلکاروں کو خطے میں تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس اقدام سے خطے میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
اس پیشرفت سے باخبر دو ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ نارتھ کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں تعینات 3 ہزار سے 4 ہزار کے قریب فوجیوں کو مشرق وسطیٰ بھیجا جائے گا۔ تاہم حکام نے ان فوجیوں کی حتمی منزل یا پہنچنے کے وقت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کی بات چیت کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگرچہ ایران کی سرزمین پر فوج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے، تاہم یہ تعیناتی خطے میں مستقبل کے ممکنہ آپریشنز کے لیے امریکی صلاحیتوں کو بڑھانے کا حصہ ہے۔ اس سے قبل 20 مارچ کو بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امریکہ یو ایس ایس باکسر اور دیگر جنگی جہازوں کے ذریعے ہزاروں میرینز اور سیلرز کو خطے میں بھیج رہا ہے۔
اس نئی کمک سے قبل مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایرانی پاور پلانٹس پر بمباری کی دھمکیوں کو ملتوی کرتے ہوئے تہران کے ساتھ تعمیری مذاکرات کا دعویٰ کیا تھا، تاہم ایران نے ان مذاکرات کی تردید کی ہے۔
امریکی عسکری حکام خطے میں اپنی حکمت عملی کے تحت آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور ایران کے تیل برآمد کرنے والے مرکز جزیرہ خارگ پر زمینی دستے تعینات کرنے کے آپشنز پر بھی غور کر رہے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران میں زمینی فوج کا استعمال صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی خطرات کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ امریکی عوام کی جانب سے اس مہم کو حمایت حاصل نہیں ہے۔ رائٹرز اور ایپوس کے سروے کے مطابق 61 فیصد امریکی ایران پر حملوں کے مخالف ہیں، جبکہ حمایت کرنے والوں کی شرح محض 35 فیصد ہے۔
امریکی اور اسرائیلی فوج کی جانب سے 28 فروری کو شروع کیے گئے آپریشنز کے بعد سے اب تک ایران کے اندر 9 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
