تہران (ویب ڈیسک) ایرانی بحریہ کے کمانڈر شہرام ایرانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فورسز امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ امریکی بیڑا ایرانی میزائلوں کی حدود میں داخل ہوا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی بحریہ کے مطابق ساحلی علاقوں سے کروز میزائلوں کے تجربات کے بعد امریکی بحری گروپ نے اپنی پوزیشن تبدیل کر لی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان تزویراتی آبی گزرگاہوں پر فوجی سرگرمیوں کے باعث تناؤ عروج پر ہے۔
دوسری جانب ایران نے جاری تنازع ختم کرنے کے لیے پیش کردہ امریکی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ جنگ بندی کا فیصلہ اور اس کی شرائط طے کرنے کا اختیار صرف تہران کے پاس ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی ہدایات کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جنگ کب ختم کرنی ہے، اس کا فیصلہ ایران اپنے مفادات اور شرائط کے تحت خود کرے گا۔
