اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے اور امن کوششوں کو تیز کرنے کے لیے تجربہ کار سفارت کار جین آرنالٹ کو اپنا ذاتی ایلچی مقرر کر دیا ہے۔ نیویارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل نے خبردار کیا کہ دنیا ایک وسیع تر جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
گوتریس نے کہا کہ وہ خطے اور دنیا بھر کے اہم رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور امن و مذاکرات کے لیے کئی اقدامات پر کام جاری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان سفارتی کوششوں کا کامیاب ہونا ناگزیر ہے۔
سیکریٹری جنرل نے آبنائے ہرمز کی طویل بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی سطح پر فصلوں کی کاشت کے اہم وقت میں یہ رکاوٹیں سنگین بحران پیدا کر سکتی ہیں۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کشیدگی بڑھانے کے بجائے سفارت کاری کی سیڑھی چڑھی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جین آرنالٹ امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ آرنالٹ گزشتہ تین دہائیوں سے ایشیا، افریقہ، یورپ اور لاطینی امریکہ میں اقوام متحدہ کے مشنز کا حصہ رہے ہیں اور وہ 2021 میں افغانستان اور علاقائی امور کے لیے بھی گوتریس کے ذاتی ایلچی رہ چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق اگر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی جون تک برقرار رہی تو کروڑوں افراد شدید قحط کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ خلیجی ممالک نائٹروجن کھاد کے خام مال کے اہم سپلائر ہیں اور اگر آج کھاد کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو کل دنیا کو شدید غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
