چین خلاء میں امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کرنے کے لیے کمر بستہ ہو گیا ہے۔ بیجنگ 2030 تک انسان کو چاند پر اتارنے، وہاں مستقل اڈہ قائم کرنے اور اس کے بعد مریخ تک رسائی حاصل کرنے کے طویل المدتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔
امریکہ کی جانب سے 2011 میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک رسائی روکنے کے بعد چین نے اپنی خلائی طاقت کو خود مستحکم کیا۔ چین نے اپنا خلائی مرکز تیانگونگ تعمیر کیا جس کا مطلب آسمانی محل ہے، جہاں 2021 سے چینی خلاباز مستقل قیام کر رہے ہیں۔ اب تک چین اپنے خلائی پروگرام کے تحت 15 سے زائد کامیاب مشنز مکمل کر چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق چینی خلائی پروگرام کی کامیابی کی بڑی وجہ ریاست کی اعلیٰ ترین سطح پر سیاسی عزم اور فنڈنگ کا تسلسل ہے۔ آسٹریلیا کی میکوری یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ ڈی گریس کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کے برعکس جہاں سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ترجیحات بدل جاتی ہیں، چین کا ماڈل پیش گوئی اور خطرات کے انتظام کے لحاظ سے زیادہ مستحکم ہے۔
چین کی خلائی ایجنسی 2030 تک اپنے خلابازوں کو چاند کی سطح پر اتارنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے 2026 میں نئے خلائی جہاز مینگ ژو کا تجرباتی مشن متوقع ہے۔ اس کے علاوہ لانگ مارچ دس نامی طاقتور راکٹ پر بھی کام جاری ہے جس کا پہلا نچلی سطح کا تجربہ 11 فروری کو کیا جا چکا ہے۔
چینی حکام 2035 تک چاند کے جنوبی قطب پر بین الاقوامی قمری تحقیقی اسٹیشن کے قیام کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں برف کی شکل میں پانی کی موجودگی کا امکان ہے۔ اس منصوبے میں روس بھی چین کا شراکت دار ہے۔ یہ اڈہ چاند کی مٹی سے تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کردہ اینٹوں سے بنایا جائے گا جس کا عملی تجربہ 2028 میں چینگ ای آٹھ مشن کے دوران کیا جائے گا۔
اگرچہ چین سرکاری طور پر اس پیش رفت کو امریکہ کے ساتھ خلائی دوڑ قرار نہیں دیتا، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ چاند پر چینی اڈے کا قیام امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ خلائی تجزیہ کار جوناتھن میک ڈوول کے مطابق چاند کے جنوبی قطب پر مناسب جگہ بہت محدود ہے، جس پر قبضہ دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
فی الحال ٹیکنالوجی اور خلائی جہازوں کے معیار میں امریکہ کو چین پر سبقت حاصل ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ 2030 تک چاند پر انسانی مشن کی کامیابی کے بعد چین، امریکہ کے برابر پہنچ جائے گا۔ چاند کے بعد چین کا اگلا ہدف مریخ ہے، جس کی تیاریوں کا آغاز 2040 کے بعد قمری اڈے کے قیام کی تکمیل سے مشروط ہے۔
