-Advertisement-

ایران، امریکہ کشیدگی: پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اسلام آباد میں اجلاس

تازہ ترین

اسحاق ڈار اور سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کی مغربی ایشیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ٹیلی فونک...
-Advertisement-

اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ایک ماہ طویل جنگ کے خاتمے اور خطے میں قیام امن کے لیے اہم سفارتی کوششوں کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ انتیس اور تیس مارچ کو اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس میں شرکت کریں گے۔

اس چار ملکی اجلاس کی صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کریں گے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور ایران اور امریکہ کے مابین تنازعات کو سفارتی مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے۔

اجلاس کا مقصد خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنانا ہے تاکہ ایک مکمل جنگ کے خطرات کو ٹالا جا سکے۔ اس سے قبل جرمنی کے وزیر خارجہ جوہن ویڈے فہول نے توقع ظاہر کی تھی کہ پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات جلد متوقع ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران نے واشنگٹن کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا اعتراف تو نہیں کیا تاہم ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پندرہ نکاتی جنگ بندی منصوبے پر اپنا جواب اسلام آباد کے ذریعے پہنچا دیا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے میامی میں ایک کاروباری فورم سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس ہفتے مذاکرات کا امکان ہے۔

تاہم ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ امریکی حملوں کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی دعوت ناقابل قبول ہے۔ عہدیدار کے مطابق تہران کی جانب سے امریکی تجاویز پر حتمی فیصلے کا عمل جاری ہے، بالخصوص ایران کی صنعتی اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -