مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ قاہرہ اور پیرس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے ہفتے کے روز یمن کی جانب سے داغے گئے ایک میزائل کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد یمن کی جانب سے کیا گیا پہلا حملہ ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ کو توقع ہے کہ فوجی کارروائیاں مہینوں کے بجائے چند ہفتوں میں مکمل کر لی جائیں گی۔
اس جنگ نے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کے باعث توانائی کی ترسیل میں تاریخ کی سب سے بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ مہنگائی میں اضافے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے داغے گئے میزائل کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں کہ یہ حملہ کس نے کیا اور اس کا ہدف کیا تھا۔
یہ اعلان ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔ حوثی گروپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں ایران اور محورِ مزاحمت کے خلاف کشیدگی جاری رہی تو وہ جوابی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
