-Advertisement-

ورلڈ کپ: کوچ پوچیٹینو کی امریکی ٹیم کو دباؤ سے آزاد ہو کر کھیلنے کی ہدایت

تازہ ترین

کولمبیا: بحریہ کا منشیات کی 30 لیبارٹریوں کے خلاف آپریشن، 4 ہزار پاؤنڈ کوکین برآمد

کولمبیا کی بحریہ نے جنوبی بحر الکاہل کے علاقے میں ایک بڑے آپریشن کے دوران منشیات کی اسمگلنگ میں...
-Advertisement-

امریکی فٹ بال ٹیم کے کوچ موری سیو پوچیٹینو نے اپنی ٹیم پر زور دیا ہے کہ وہ رواں برس منعقد ہونے والے ورلڈ کپ کی میزبانی کے دباؤ اور توقعات کے بوجھ تلے دبنے کے بجائے آزادانہ کھیل پیش کریں۔ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے ہمراہ اس عالمی ایونٹ کی مشترکہ میزبانی کر رہا ہے۔

پوچیٹینو نے بیلجیئم کے خلاف ہفتے کے روز ہونے والے دوستانہ میچ سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کو این ایف ایل اور باسکٹ بال جیسے کھیلوں کے ایتھلیٹس سے سیکھنا چاہیے جو دباؤ کے بغیر اپنی کارکردگی اور تفریح پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب کھلاڑی خود کو آزاد اور خوش محسوس کرتے ہیں تو ان کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔

ارجنٹائن کے سابق کھلاڑی نے 2002 کے ورلڈ کپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ان کی ٹیم پر بے پناہ دباؤ تھا جسے وہ سنبھالنے میں ناکام رہے اور ٹیم گروپ مرحلے سے ہی باہر ہوگئی تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دباؤ کو صحیح طریقے سے نہ سنبھالا جائے تو یہ کارکردگی کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔

امریکی ٹیم کے اہم دفاعی کھلاڑی کرس رچرڈز اور مائلز رابنسن انجری کے باعث بیلجیئم اور پرتگال کے خلاف میچوں سے باہر ہو چکے ہیں۔ تاہم کرسچن پلسک اور ویسٹن میکینی جیسے اسٹار کھلاڑی اسکواڈ کا حصہ ہوں گے۔ میکینی کا کہنا ہے کہ پیشہ ور کھلاڑی کے طور پر ہم دباؤ کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرتے ہیں اور اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

دوسری جانب کرسچن پلسک نے بتایا کہ وہ بڑھتی ہوئی توقعات سے دور رہنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال ترک کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کا دباؤ ایک حقیقت ہے لیکن وہ اس کے عادی ہو چکے ہیں۔

پوچیٹینو نے واضح کیا کہ وہ اس ٹیم کے ساتھ کامیابی کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے شائقین سے اپیل کی کہ وہ ٹیم پر یقین رکھیں، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ امریکا نے 1930 کے بعد سے اب تک ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہیں کی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -