وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے نتیجے میں امریکی فوج کو اربوں ڈالرز کے فوجی سازوسامان کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ابتدائی تین ہفتوں کے دوران ہونے والے نقصانات کا تخمینہ ایک اعشاریہ چار ارب سے دو اعشاریہ نو ارب ڈالرز کے درمیان لگایا گیا ہے۔ پینٹاگون کی سابق بجٹ عہدیدار ایلین میککسکر نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یکم مارچ کو کویتی طیارے کی جانب سے غلطی سے تین ایف پندرہ ای لڑاکا طیارے مار گرائے گئے۔ سولہ مارچ کو ایک ایف پینتیس اسٹیلتھ جیٹ کو شدید فائرنگ کے بعد ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی، جس کے بارے میں ایران کا دعویٰ ہے کہ اسے انہوں نے نشانہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ عراق کے اوپر دو کے سی ایک سو پینتیس ری فیولنگ طیارے فضا میں ٹکرا گئے جس کے نتیجے میں چھ اہلکار ہلاک ہو گئے۔
سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے کے دوران پانچ مزید کے سی ایک سو پینتیس طیارے تباہ ہوئے جو اب مرمت کے مراحل میں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک درجن سے زائد ایم کیو نائن ریپر ڈرونز بھی ضائع ہو چکے ہیں جن میں سے کچھ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ دیگر زمین پر تباہ ہوئے۔ سعودی عرب، قطر اور اردن میں قائم امریکی اڈوں پر بھی ایرانی حملوں سے ریڈار سسٹمز اور طیاروں کو نقصان پہنچا۔
بارہ مارچ کو طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ پر آگ لگ گئی، جس کے بعد امریکی بحریہ کے مطابق اسے مرمت کے لیے یونان کی سودا بے بندرگاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ پینٹاگون اب دو سو ارب ڈالرز کی ضمنی گرانٹ کے ذریعے ان تباہ شدہ نظاموں کی بحالی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
خطے میں کشیدگی کا آغاز اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے ہوا، جس میں اب تک انیس سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کارروائیوں کے آغاز سے اب تک تیرہ امریکی فوجی ہلاک اور دو سو نوے کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
