جنوبی لبنان کے شہر جزین کے قریب اسرائیلی فضائی حملے میں تین صحافی جاں بحق ہو گئے۔ انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے اس گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں صحافی سوار تھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں المنار ٹی وی کے نامہ نگار علی شعیب، المیادین کی نامہ نگار فاطمہ فتونی اور ایک کیمرہ مین شامل ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جان بوجھ کر المیادین کی نامہ نگار فاطمہ فتونی کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس پر پریس کے واضح نشانات موجود تھے۔ فاطمہ فتونی اپنے بھائی اور ساتھی صحافی علی شعیب کے ہمراہ کوریج کے لیے جا رہی تھیں۔
لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ جزین میں واقع البراد روڈ پر گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج نے علی شعیب کی ہلاکت کا اعتراف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ حزب اللہ کی رضوان فورس کے انٹیلی جنس یونٹ سے وابستہ تھے، تاہم دیگر دو صحافیوں کی ہلاکت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
لبنانی صدر جوزف عون نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک گھناؤنا جرم قرار دیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق ہفتے کے روز سے اب تک اسرائیل نے جنوبی لبنان کے 42 سے زائد شہروں اور قصبوں پر فضائی اور توپ خانے سے حملے کیے ہیں۔
لبنانی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دو مارچ سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 1142 افراد شہید اور 3315 زخمی ہو چکے ہیں۔
