-Advertisement-

روس ایران کی توقع سے زیادہ عسکری مدد کر رہا ہے، یورپی اتحادیوں کا انکشاف

تازہ ترین

عمان میں سیلاب کے دوران دو بھارتی شہریوں کو بچانے والا پاکستانی مزدور قومی ہیرو قرار

عمان کے ساحلی شہر برکا میں ایک پاکستانی مزدور شہزاد خان نے انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے...
-Advertisement-

یورپی اتحادی ممالک نے امریکی سفارت کاروں پر واضح کیا ہے کہ روس، ایران کی جنگی کوششوں میں عملی طور پر براہ راست مدد کر رہا ہے۔ سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق یورپی حکام کا موقف ہے کہ یوکرین کی جنگ اور ایران کے تنازعات اب ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں کیونکہ ماسکو اور تہران کے درمیان عسکری تعاون میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

برطانیہ کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے نہ صرف روس کو یوکرین کے محاذ پر استعمال کے لیے شاہد ڈرون فراہم کیے بلکہ ڈرون ٹیکنالوجی کی تیاری کے خفیہ طریقے بھی روس تک پہنچائے جس سے ایران کی ڈرون جنگی صلاحیتوں میں بہتری آئی ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل باروٹ نے اس تعلق کو دو طرفہ تعاون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ روس ایران کی ان عسکری کوششوں میں معاونت کر رہا ہے جن کا ہدف امریکی تنصیبات ہیں۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ملک کے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ روس، ایرانی حکومت کو سگنل اور الیکٹرانک انٹیلی جنس کی صلاحیتیں فراہم کر رہا ہے۔

یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار کاجا کالاس نے جی سیون رہنمائوں کو بتایا کہ روس ایران کو امریکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو کی مدد سے ایران نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ امریکی فوجی اڈوں کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔

برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے بھی ایران کی جنگی کوششوں کے پیچھے پیوٹن کا خفیہ ہاتھ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان خبروں کو اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کا ایران کے ساتھ تعاون امریکی آپریشنز کی تاثیر کو متاثر نہیں کر رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑی تو امریکہ اپنے دفاعی سازوسامان کو ترجیح دے گا۔

امریکی انٹیلی جنس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق چین، روس، ایران اور شمالی کوریا کے درمیان منتخب نوعیت کا تعاون موجود ہے جس کا مقصد امریکہ کے عالمی اثر و رسوخ کو متوازن کرنا ہے، تاہم ان ممالک کے مابین مفادات کا مکمل اتحاد ابھی تک نہیں بن سکا۔

دریں اثنا یوکرین، اسرائیل اور خلیجی ممالک کی جانب سے امریکی ساختہ انٹرسیپٹرز کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ مارکو روبیو نے تسلیم کیا کہ مستقبل میں امریکہ کو اپنے دفاعی ہتھیاروں کی ترسیل کا رخ تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -