امریکا سمیت دنیا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمرانہ پالیسیوں اور حکومت کے غیر آئینی اقدامات کے خلاف ہفتے کے روز بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ یہ مظاہرے نو کنگز نامی عوامی تحریک کے زیر اہتمام کیے گئے جو جنوری 2025 میں ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت کے آغاز کے بعد سے ان کی مخالفت کا سب سے بڑا مرکز بن چکی ہے۔
مظاہرین کا غصہ خاص طور پر ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ پر ہے جس کے اہداف اور دورانیے کے حوالے سے مسلسل غیر یقینی پائی جاتی ہے۔ واشنگٹن، بوسٹن اور اٹلانٹا سمیت کئی امریکی شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ اٹلانٹا میں 36 سالہ فوجی تجربہ کار مارک میک کوہی نے کہا کہ کوئی بھی ملک عوام کی مرضی کے بغیر نہیں چل سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ امریکی آئین کو کئی طریقوں سے خطرات لاحق ہیں اور حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں۔
دارالحکومت واشنگٹن میں مظاہرین نے ٹرمپ کو ہٹانے اور فسطائیت کے خاتمے کے نعرے درج بینرز اٹھا کر لنکن میموریل تک مارچ کیا۔ شدید سردی کے باوجود مشی گن کے علاقے ویسٹ بلوم فیلڈ میں بھی شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر موجود تھی۔
احتجاج کا یہ سلسلہ یورپ تک پھیل گیا ہے جہاں ایمسٹرڈیم، میڈرڈ اور روم میں ہزاروں افراد نے مظاہرے کیے۔ روم میں 20 ہزار افراد نے پولیس کے سخت پہرے میں مارچ کیا۔ 29 سالہ محقق آندرے نوسا نے کہا کہ ہم ایسی دنیا نہیں چاہتے جہاں بادشاہ اوپر سے بیٹھ کر فیصلے کرتے ہوں۔
نو کنگز تحریک کے تحت یہ تیسرا بڑا احتجاج ہے۔ اس سے قبل جون میں ٹرمپ کی سالگرہ اور اکتوبر میں ہونے والے مظاہروں میں لاکھوں افراد شریک ہوئے تھے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی مقبولیت 40 فیصد سے نیچے گر چکی ہے اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ تحریک مزید زور پکڑ رہی ہے۔
مظاہرین صدر ٹرمپ کے صدارتی حکم ناموں کے ذریعے حکومت چلانے، محکمہ انصاف کے سیاسی استعمال، ماحولیاتی تبدیلیوں سے انکار اور نسلی و صنفی تنوع کے پروگراموں کے خاتمے پر سخت برہم ہیں۔ کامن ڈیفنس نامی تنظیم کے نوید شاہ نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ نے ملک کو جنگ کی دلدل میں دھکیل دیا ہے اور ایک شخص بادشاہ کی طرح حکومت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ملک بھر میں تین ہزار سے زائد ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔ مینیسوٹا کے شہر سینٹ پال میں معروف گلوکار بروس اسپرنگسٹین اپنے متنازع گیت سٹریٹس آف منیاپولس کے ذریعے احتجاج میں حصہ لیں گے، جو جنوری میں تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ہلاک ہونے والے دو شہریوں کی یاد میں تیار کیا گیا تھا۔ تحریک کے منتظمین کے مطابق اس بار مظاہروں میں شامل ہونے والے دو تہائی افراد بڑے شہروں کے بجائے چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
