-Advertisement-

ساڑھے تین ہزار امریکی فوجیوں کے ساتھ جنگی جہاز یو ایس ایس ٹریپولی مشرق وسطیٰ پہنچ گیا

تازہ ترین

اسرائیل میں جنگ مخالف مظاہرے، پولیس کی کارروائی میں 13 افراد گرفتار

تل ابیب اور اسرائیل کے دیگر شہروں میں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خلاف ہونے والے غیر قانونی...
-Advertisement-

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی حالیہ نقل و حرکت احتیاطی تدابیر کا حصہ ہے جس کا مقصد کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری کو یقینی بنانا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے انتیس مارچ کو تصدیق کی ہے کہ تین ہزار پانچ سو سے زائد امریکی سیلرز اور میرینز پر مشتمل یو ایس ایس ٹریپولی مشرق وسطیٰ میں پہنچ چکا ہے۔ یہ ایمفیبیئس اسالٹ شپ ٹریپولی ایمفیبیئس ریڈی گروپ اور اکتیسویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کا فلیگ شپ ہے جو زمینی، فضائی اور بحری صلاحیتوں کا حامل ایک مشترکہ دستہ ہے۔

یو ایس ایس ٹریپولی امریکی بحری بیڑے کے جدید ترین اور طاقتور ترین بحری جہازوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس جہاز پر ایف پینتیس اسٹیلتھ لڑاکا طیارے، وی بائیس اوسپرے اور دیگر جنگی طیارے تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ یہ جہاز دو ہفتے قبل تک جاپان میں تعینات تھا جہاں سے اسے مشرق وسطیٰ روانگی کے احکامات ملے۔

سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس جہاز کی آمد سے خطے میں امریکی فضائی اور بحری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ سان ڈیاگو سے یو ایس ایس باکسر کو بھی گیارہویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے ہمراہ مشرق وسطیٰ بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

امریکی حکام نے ان اضافی دستوں کی حتمی تنصیب کے مقامات کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ دستے ایران کے قریب تعینات کیے جائیں گے، جن میں ایران کی ساحلی حدود کے قریب واقع اہم تیل برآمدی مرکز خارگ آئی لینڈ جیسے مقامات شامل ہو سکتے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -