-Advertisement-

جنگ شروع کرنے والے حکمرانوں کی دعائیں خدا قبول نہیں کرتا، پوپ فرانسس

تازہ ترین

جنوبی لبنان میں صحافیوں کے قتل پر روس اور فرانس کا تحقیقات کا مطالبہ

روس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں تین صحافیوں کی ہلاکت کو قتل قرار دیتے ہوئے اس...
-Advertisement-

پوپ لیو نے اتوار کے روز سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خدا ان رہنماؤں کی دعائیں قبول نہیں کرتا جو جنگیں شروع کرتے ہیں اور جن کے ہاتھ انسانی خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ایران جنگ کے دوسرے مہینے میں داخل ہونے کے موقع پر پوپ نے اپنے سخت ترین بیان میں کہا کہ یسوع مسیح کے نام کا سہارا لے کر کسی بھی جنگ کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پوپ لیو نے بائبل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگجوؤں کی دعائیں خدا تک نہیں پہنچتیں کیونکہ ان کے ہاتھ خون سے بھرے ہوتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے کسی مخصوص عالمی رہنما کا نام نہیں لیا، تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران ایران جنگ پر ان کی تنقید میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پوپ نے اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں مسیحی برادری اس ہولناک تنازع کے سنگین نتائج بھگت رہی ہے اور خدشہ ہے کہ وہ ایسٹر کا تہوار منانے سے بھی محروم رہ سکتے ہیں۔ وہ مسلسل جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور فوجی فضائی حملوں کو غیر امتیازی قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

یہ سخت موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ امریکی حکام کی جانب سے عیسائی عقائد کا حوالہ دے کر اٹھائیس فروری کو ایران پر کیے گئے مشترکہ امریکی و اسرائیلی حملوں کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے حال ہی میں پینٹاگون میں ایک مذہبی تقریب کے دوران دشمنوں کے خلاف زبردست تشدد کی دعا کی تھی۔

اپنے خطاب کے دوران پوپ لیو نے یسوع مسیح کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی ہتھیار نہیں اٹھائے اور نہ ہی تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یسوع مسیح نے خدا کا پرامن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا اور تشدد کو ہمیشہ مسترد کیا، یہاں تک کہ اپنی جان بچانے کے بجائے انہوں نے صلیب پر چڑھنا قبول کر لیا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -