اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا جس میں خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور مستقل امن کے قیام کے لیے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ شرکاء نے خطے میں جاری تنازعہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانی جانوں اور معاشی حالات کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور اس سے صرف تباہی اور بربادی پھیلے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ مشکل حالات میں امت مسلمہ کا اتحاد ناگزیر ہے۔ اجلاس میں فوجی کشیدگی کو کم کرنے اور متعلقہ فریقین کے مابین بامقصد مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ اجلاس کے دوران خطے کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ تنازعات کے حل اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام لازم ہے۔
چاروں ممالک نے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنے متعلقہ وزارت خارجہ کے سینئر حکام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو باہمی مشاورت سے طریقہ کار وضع کرے گی۔ اسحاق ڈار نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
نائب وزیر اعظم نے واضح کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان خطے میں امن کے لیے متحرک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور دونوں ممالک نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی پاکستان کی اس امن کوشش کی مکمل حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی پاکستان کی ان کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آنے والے دنوں میں فریقین کے مابین بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کے لیے پرعزم ہے۔
