-Advertisement-

باب المندب بند کرنے کی ایرانی دھمکی، عالمی توانائی بحران کا خدشہ

تازہ ترین

اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان کی وکلاء سے ملاقات کرانے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے...
-Advertisement-

ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ گروہ باب المندب کی آبنائے کو بند کر سکتے ہیں۔ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی یہ اہم تجارتی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی حساس سمجھی جاتی ہے۔

سابق ایرانی وزیر خارجہ اور سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی کا کہنا ہے کہ مزاحمتی محاذ کی مشترکہ کمان باب المندب کو بھی اسی تناظر میں دیکھتی ہے جس طرح آبنائے ہرمز کو دیکھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ہرمز کے ذریعے دنیا بھر کی تیل اور گیس کی بیس فیصد ترسیل ہوتی ہے۔

یمن، جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع باب المندب کی چوڑائی محض انتیس کلومیٹر ہے اور عالمی تجارت کا دس فیصد اور تیل کی ترسیل کا پانچ فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایرانی پابندیوں کے بعد اس گزرگاہ کی تزویراتی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے جس کے باعث سعودی عرب نے اپنا خام تیل ینبع کی بندرگاہ تک پہنچانے کے لیے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کا استعمال بڑھا دیا ہے۔

موجودہ صورتحال میں اس آبنائے پر یمن کے حوثی باغیوں کا عملی کنٹرول ہے، جو ماضی میں بھی علاقائی تنازعات کے دوران جہاز رانی میں رکاوٹیں کھڑی کر چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں پر ہونے والے معمولی حملے بھی ٹریفک کو مکمل طور پر معطل کر سکتے ہیں، جس سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والا توانائی کا بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔

کیمبرج یونیورسٹی کی مشرق وسطیٰ کی ماہر الزبتھ کینڈل کے مطابق اگر باب المندب اور ہرمز دونوں راستے بند کر دیے گئے تو دنیا بھر کی پچیس فیصد تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جسے انہوں نے عالمی تجارت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب قرار دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ حوثی باغی اس آبنائے کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم وہ سعودی عرب کے ردعمل یا بین الاقوامی کارروائی سے بچنے کے لیے کسی بڑی کارروائی سے گریز کر سکتے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -