امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے درست اور متعلقہ حکام نے ان سے رابطہ کیا ہے اور وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہشمند ہیں۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ اس وقت تک کسی سمجھوتے پر آمادہ نہیں ہوگا جب تک ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کا ارادہ ترک نہیں کر دیتا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری طاقت نہیں بن سکے گا اور سابقہ امریکی انتظامیہ کو اس معاملے پر سخت مؤقف نہ اپنانے پر پچھتاوا ہے۔
تہران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ کسی بھی ملک کو دنیا کو بلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اس آبی گزرگاہ کا محتاج نہیں ہے کیونکہ ملک کے پاس تیل اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق امریکہ کے پاس سعودی عرب اور روس سے بھی زیادہ تیل اور گیس کے وسائل موجود ہیں اور آئندہ برس پیداوار میں دوگنا اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا عالمی برادری کی ضرورت ہے نہ کہ امریکہ کی۔
ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی بحریہ کی جانب سے کوئی بھی جارحانہ اقدام کیا گیا تو اسے فوری طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایرانی کشتیوں نے امریکی مفادات کے قریب آنے کی کوشش کی تو انہیں اسی طرح تباہ کر دیا جائے گا جس طرح سمندری راستوں سے منشیات اسمگل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔
صدر نے مزید کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے لیے امریکہ کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم کچھ ممالک اس سلسلے میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔
