-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ تنازع: اقوامِ متحدہ کا امریکا اور ایران پر مذاکرات جاری رکھنے پر زور

تازہ ترین

ایران کو جوہری حقوق سے محروم کرنے کا ٹرمپ کے پاس کوئی جواز نہیں، صدر پزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کو اس کے جوہری...
-Advertisement-

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے واضح کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کا کوئی عسکری حل نہیں ہے اور امریکہ اور ایران کو چاہیے کہ وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تعمیری مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں۔

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے، تاہم ترجمان نے کہا کہ ان بات چیت سے دونوں فریقین کی سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے زور دیا ہے کہ فریقین اپنے اختلافات کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر موجود رہیں۔

اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ گہرے اختلافات راتوں رات ختم نہیں ہو سکتے، اس لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عمل میں سہولت کاری فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور سعودی عرب، مصر، ترکی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امن کی ان کوششوں کی حمایت کریں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے جنگ بندی پر سختی سے عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خلاف ورزیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ گوتریس نے عالمی قوانین کے مطابق آبنائے ہرمز سمیت سمندری راستوں پر جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ تنازع کے باعث بیس ہزار کے قریب ملاح بحری جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں اور مشکلات کا شکار ہیں۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی رکاوٹوں سے عالمی معاشی استحکام کو خطرہ ہے اور اس سے دنیا بھر میں خوراک کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اسلام آباد میں اکیس گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کسی معاہدے پر متفق نہ ہو سکے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کا بے نتیجہ رہنا ایران کے لیے زیادہ بڑا نقصان ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے مذاکرات کو ناکام بنایا حالانکہ دونوں فریقین کسی سمجھوتے کے قریب تھے۔

مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کا محاصرہ شروع کرے گی۔ واضح رہے کہ اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد سے خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ اسلام آباد میں ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان اور چین نے خلیجی خطے اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے پانچ نکاتی فارمولا بھی پیش کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -