-Advertisement-

امریکہ ایران کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

تازہ ترین

ایران کے خلاف ٹرمپ کے سخت بیانات، امریکی وفد اہم مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا

واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان جاری سفارتی ہلچل کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت...
-Advertisement-

اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرنا جاری رکھے گا۔ وزیراعظم نے شرکاء کو امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

وزیراعظم نے امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان مذاکرات کے مثبت نتائج کے لیے پرامید ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں بعد امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر پاکستان عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

شہباز شریف نے بتایا کہ دونوں ممالک کے مابین مذاکرات پاکستان کی درخواست پر اسلام آباد میں منعقد ہوئے جس میں دونوں جانب سے وفود نے شرکت کی۔ انہوں نے امریکی اور ایرانی صدور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دعوت قبول کرنا نہ صرف ان کے لیے بلکہ پاکستانی عوام کے لیے بھی اعزاز کی بات ہے۔

وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ دونوں ممالک دو ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہوئے ہیں اور دونوں جانب سے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان اکیس گھنٹے تک مذاکرات جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امن کی بحالی کے لیے ثالثی کا موقع ملا ہے اور جنگ بندی پر عمل درآمد جاری ہے جبکہ دیگر مسائل کے حل کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے اس پیش رفت کو قوم کے لیے فخر کا تاریخی لمحہ قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے پاکستان کو جنگ بندی کو دیرپا امن میں بدلنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مذاکرات کے دوران کئی بار ایسے نازک لمحات آئے جب بات چیت ٹوٹنے کے قریب تھی لیکن اسے دوبارہ بحال کر لیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو سراہا اور ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کی خدمات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر متحرک رہے اور ان کی اسٹریٹجک بصیرت نے عارضی جنگ بندی کے نفاذ میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -