وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی قیادت کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کروانے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کر دیا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ پیش رفت ریاض میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔
بدھ کے روز ہونے والی یہ ملاقات دو گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے واشنگٹن اور تہران کے مابین مذاکرات کی بحالی کے لیے اسلام آباد کے سفارتی اقدامات کی تفصیلات پیش کیں اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے سعودی عرب کو درپیش حالیہ سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔ سعودی ولی عہد نے مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے حل اور امن کی بحالی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔
پاکستان روایتی طور پر سعودی عرب کے ساتھ گہرے تزویراتی تعلقات برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ بھی ورکنگ ریلیشن شپ کو اہمیت دیتا ہے۔ اسلام آباد اور ریاض کے مابین طویل عرصے سے دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے۔
ملاقات کا یہ سلسلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ولی عہد کی قیادت میں سعودی عرب کی جانب سے تحمل کے مظاہرے کو سراہا اور مملکت کی خودمختاری و سلامتی کے لیے پاکستان کی حمایت کا یقین دلایا۔
یہ دورہ پاکستان کی اس وسیع سفارتی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد اہم علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کر کے کشیدگی میں کمی لانا اور حریف قوتوں کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
